شمالی وزيرستان ميں امريکی ڈرون حملہ، کم از کم سات افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی وزيرستان ميں امريکی ڈرون حملہ، کم از کم سات افراد ہلاک

پاکستانی انٹيلی جنس اہلکاروں کے مطابق صوبہ خيبر پختونخوا ميں افغان سرحد کے قريب جمعے کے روز کيے جانے والے ايک امريکی ڈرون حملے ميں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہيں۔

اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر ان انٹيلی جنس اہلکاروں نے بتايا کہ گزشتہ روز شاوال نامی علاقے ميں منگروٹھی گاؤں کے ايک کمپاؤنڈ پر کم از کم دو ميزائل داغے گئے۔ يہ علاقہ شمالی وزيرستان ميں ميرانشاہ سے قريب 45 کلوميٹر دور واقع ہے۔ حملے کے نتيجے ميں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ تين مزيد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہيں۔ نيوز ايجنسی روئٹرز کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد ميں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔

يہ ڈرون حملہ اس حملے کے دس روز بعد کيا گيا، جس ميں پاکستانی طالبان کا اہم رہنما ولی الرحمان مارا گيا تھا۔ ولی الرحمان کی ہلاکت کو پاکستانی طالبان عسکريت پسندوں کے ليے ايک بڑا دھچکا جبکہ امريکی و اتحادی افواج کے ليے ايک اہم کاميابی قرار ديا گيا ہے۔

امريکا ميں پچھلے کئی مہينوں سے ڈرون حملوں کی پاليسی کو شفاف بنانے اور اس حوالے سے مزيد معلومات فراہم کيے جانے کے مطالبات کے تناظر ميں صدر باراک اوباما نے پچھلے مہينے يہ اعلان کيا تھا کہ ڈرون حملے کم کر ديے جائيں گے۔ اوباما کے بقول ايسے حملے محض اس صورت ميں کيے جائيں گے جبکہ خطرہ واضح ہو اور حملہ ناگزير ہو۔

نواز شريف ڈرون حملوں کو اہم ترين مسائل ميں سے ايک قرار دے چکے ہيں

نواز شريف ڈرون حملوں کو اہم ترين مسائل ميں سے ايک قرار دے چکے ہيں

يہاں يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جمعے کے روز کيا جانے والا يہ حملہ پاکستان کی نو منتخب کابينہ اور وزير اعظم نواز شريف کے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا حملہ ہے۔ نواز شريف، جنہوں نے رواں ہفتے بدھ کے روز بطور ملکی وزير اعظم حلف اٹھايا، يہ کہہ چکے ہيں کہ ايسے حملے پاکستان کی خودمختاری کو منفی انداز سے متاثر کرتے ہيں۔ انہوں نے يہ بات پارليمان سے اپنے خطاب کے دوران کہی۔ قبل ازيں اپنی اليکشن مہم کے دوران بھی نواز شريف امريکی ڈرون حملوں کے سخت ناقد رہے ہيں۔

امريکا کا موقف ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں ميں، جہاں واشنگٹن انتظاميہ کے مطابق القاعدہ کے عسکريت پسندوں نے اپنی پناہ گاہيں بنا رکھی ہيں، ايسے حملے ناگزير ہيں۔ تاہم پاکستان ميں عام رائے يہی ہے کہ ڈرون حملے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کو منفی انداز سے متاثر کرتے ہيں بلکہ يہ حملے بے گناہ افراد کی ہلاک کا سبب بھی بنتے ہيں۔

as/aba (AP, Reuters)