1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی قفقاذ میں داعش کا سربراہ اور ساتھی داغستان میں مارے گئے

شمالی قفقاذ کے علاقے میں داعش کا سربراہ رستم اصیل داروف اپنے چار جہادی ساتھیوں سمیت روسی جمہوریہ داغستان میں مارا گیا ہے۔ یہ مسلح کارروائی داخلی سلامتی کے نگران روسی خفیہ ادارے ادارے ایف ایس بی کے دستوں کی طرف سے کی گئی۔

Russische Anti-Terroreinheit (Igor Zarembo/RIA Novosti/picture alliance)

شمالی قفقاذ کے علاقے میں داعش کا سربراہ اپنے ساتھیوں سمیت داغستان کے دارالحکومت مخاچ قلعہ میں روسی سیکرٹ سروس کی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں مارا گیا

روسی دارالحکومت ماسکو سے اتوار چار دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے یہ پانچوں عسکریت پسند ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کی گئی ایک مسلح کارروائی میں ہلاک ہوئے۔

روسی نیوز ایجنسی تاس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ داغستان میں داعش کے جو پانچ جہادی مارے گئے، ان میں رستم اصیل داروف نامی سرکردہ عسکریت پسند بھی شامل تھا، جس نے 2014ء میں شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ رستم اصیل داروف اور اس کے ساتھی روسی جمہوریہ داغستان کے دارالحکومت مخاچ قلعہ میں ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے، جہاں روسی دستوں نے پہلے انہیں اپنے ہتھیار پھینک کر خود کو قانون کے حوالے کر دینے کے لیے کہا۔ پھر حکام نے ان جہادیوں کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی تو ان عسکریت پسندوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران یہ پانچوں جہادی سکیورٹی دستوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

Russland Wolgograd Anschlag Bekennervideo 20.01.2014 (Reuters/Handout via Reuters Television)

دو ہزار چودہ میں روسی شہر وولگوگراڈ میں بیک وقت دو خود کش حملے کرنے والے داعش کے حملہ آور، ان حملوں میں کم از کم چونتیس افراد مارے گئے تھے

بعد ازاں روسی حکام نے جب اس گھر کی تلاشی لی تو انہیں وہاں سے متعدد خودکار آتشیں ہتھیاروں کے علاوہ کافی مقدار میں گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی ملا۔ نیوز ایجنسی تاس کے مطابق رستم اصیل داروف شمالی قفقاذ کے علاقے میں داعش کا سربراہ تھا اور اس نے 2010ء میں دو خودکش بمبار خواتین کی مدد سے ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔

بعد میں یہی جہادی عسکریت پسند ستمبر 2011ء میں ایک روسی گاؤں میں ایک امام مسجد کے قتل اور 2013ء میں روسی شہر وولگوگراڈ میں ایک دہشت گردانہ حملے کا مرکزی منصوبہ ساز اور ان حملوں میں شامل بھی رہا تھا۔

DW.COM