1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شمالی قبرص: جسم فروشی ’’نو‘‘ مگر سیکس کلبوں کا بزنس جائز

قبرص سے علیحدہ ہونے والا حصہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص کہلاتا ہے اور یہاں ہزاروں ترک فوجی تعینات ہیں۔ اس حصے میں جسم فروشی ممنوع ہے لیکن سیکس کلبوں کا کاروبار مسلسل پَنپ رہا ہے۔

شمالی قبرص کے ایسے کلبوں کے نام انتہائی دلچسپ اور لبھانے والے ہیں، مثلاً سیکسی لیڈی، حَرم، لپ اسٹک وغیرہ وغیرہ۔ ان کلبوں میں حسین خواتین کو کیبرے ڈانسرز اور مرد مہمانوں کے لیے کلبوں کی جانب سے میزبانی کے فرائض انجام دینے کے لیے رکھا جاتا ہے لیکن اندر کی بات ہے کہ یہ تمام خواتین کلب انتظامیہ کی ہدایت یا حکم پر جسم فروشی کے کاروبار کا حصہ ہیں۔

شمالی قبرص میں ایسے کلبوں کی تعداد پچاس سے بھی زیادہ ہے اور ملازم پیشہ خواتین کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان میں کام کرنے والی خواتین کو ماہانہ بنیادوں پر ہسپتال سے اپنا ایڈز بیماری کا ٹیسٹ کروانا ہوتا ہے حالانکہ شمالی قبرص کی انتظامیہ اِن خواتین کو سیکس ورکرز ماننے کے لیے تیار نہیں۔

ترک جمہوریہ شمالی قبرص میں جسم فروشی کی قانون اجازت نہیں دیتا لیکن اپریل سن 2014 سے لے کر جنوری سن 2015 کے درمیان مختلف کلبوں میں کام کرنے کے لیے ایک ہزار 168 خواتین کو کام کے ویزے جاری کیے گئے۔ ان خواتین میں نصف کا تعلق مالدووا سے ہے اور بقیہ مراکش، یوکرائن سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں کی شہریت رکھتی ہیں۔

جب یہ خواتین ہسپتالوں میں ایڈز ٹیسٹ کروانے جاتی ہیں تو کلبوں کے اہلکار بھی اُن کے ہمراہ ہوتے ہیں اور انہیں کسی اجنبی سے گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مقامی اخبارات کے مطابق رواں برس جون میں ایک خوبرو مراکشی خاتون نے ایک کلب کی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر اپنی ٹانگ کا فریکچر کروا لیا تھا کیونکہ وہ سیکس ورکر نہیں بننا چاہتی تھی۔

شمالی قبرص میں کیبرے ڈانسرز کے بزنس کو مسلسل افزائش ملتی جا رہی ہے اور سیاسی و سماجی حلقے اِس پر کڑی نکتہ چینی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترک جمہوریہ شمالی کوریا (TRNC) کی پارلیمنٹ کے رکن دواس دریا کا کہنا ہے کہ یہ تمام نائٹ کلبز حقیقت میں فحاشی کے اڈے یا چکلے ہیں، ان میں کام کرنے والی خواتین سیکس ورکرز ہیں اور اِس حوالے سے سبھی آگاہ ہیں لیکن کوئی بھی کچھ کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

اسی طرح شمالی قبرص کی پارلیمنٹ کی ایک خاتون رُکن نے نام بتائے بغیر بتایا کہ ان کلبوں میں کام کرنے والی خواتین کو اپنی ضروریات کی ہر شے خود خریدنی ہوتی ہے، خواہ جوتے ہوں یا زیر جامے۔ خاتون رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ یہ خواتین کلبوں میں رہائش اُسی صورت میں رکھ سکتی ہیں، اگر وہ فی ہفتہ 150 امریکی ڈالر کمانے کی اہل ہوتی ہیں۔ شمالی قبرصی پارلیمان کی خاتون رکن کا یہ بھی کہنا ہے کہ شمالی قبرص میں جسم فروشی کے لیے انسانی اسمگلنگ بہت آسان ہے۔

یورپی انسانی حقوق کی عدالت نے مقامی پارلیمنٹ کو مختلف اقدامات کو قانونی شکل دینے پر مجبور ضرور کیا ہے۔ جنوری سن 2014 کے بعد سے شمالی قبرص میں بظاہر سیکس کے حوالے سے خواتین کی اسمگلنگ کو غیرقانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ اِس میں ملوث فرد یا افراد کو کم از کم سات برس کی قید سزا سنائی جا سکتی ہے۔

Symbolbild Prostitution Bordell Rotlicht

شمالی قبرص کے ایسے کلبوں کے نام انتہائی دلچسپ اور لبھانے والے ہیں، مثلاً سیکسی لیڈی، حَرم، لپ اسٹک وغیرہ وغیرہ۔

شمالی قبرص میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون وکیل منے ایتلی کا کہنا ہے کہ سیکس پر مجبور کرنے پر کوئی بھی خاتون ٹیلی فون ہیلپ لائن استعمال کر سکتی ہے لیکن اسمگل شدہ خواتین اِس کے استعمال سے گھبراتی ہیں۔ سماجی کارکن منے علی کا کہنا ہے کہ جو خاتون بھاگ کر پولیس کے پاس پہنچتی ہے، پولیس اُس کو طوائف ہونے کے الزام کے تحت گرفتار کر لیتی ہے اور جو مرد اُس کے پیچھے پیچھے پہنچتا ہے، وہ بطور دلال گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے وزیر داخلہ عزیز گُرپینار کا کہنا ہے کہ کیبرے بزنس رکھنے والے سالانہ بنیادوں پر ساڑھے سات ملین ترک لیرا (ڈھائی ملین امریکی ڈالر) بطور ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ گُرپینار نے واضح کیا کہ اِن کلبوں میں ملازم پیشہ خواتین کے استحصال کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق کلبوں میں کام کرنے والی خواتین کو اُن کے حقوق بارے آگہی کا پمفلٹ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب یونانی قبرص نے چند برس قبل خواتین کے لیے بطور فنکار ویزے کے اجراء پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ اِسے بھی جسم فروشی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ یونانی قبرص بھی جسم فروش خواتین کی اسمگلنگ کے حوالے سے نیک نام نہیں رکھتا۔ اسی باعث یورپی یونین اور امریکا نے بھی یونانی قبرص کو خواتین کی اسمگلنگ کے تناظر میں اپنی واچ لسٹ پر رکھا ہوا ہے۔