1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی فلپائن طوفان کوپوّ کی زد میں

فلپائن میں اتوار کی صبح آنے والے کوپو نامی سمندری طوفان نے ہزاروں انسانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر کسی محفوظ مقام کی طرف نقل مکاتی پر مجبور کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کے اگلے تین روز کے اندر تیز بارش متوقع ہے جس کے سبب کوپّو طوفان سیلاب کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور مٹی کے تودے گرنے سے بھی صورتحال کے مزید سنگین ہونے کے خطرے کا انتباہ بھی دیا ہے۔

ناگہانی آفات کی تباہ کاری کے محکمے کے حکام کے مطابق شمالی فلپائن کے ساحلی علاقوں سے کئی ہزار باشندوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیا گیا ہے۔ 250 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھنے والا کوپّو تیز ہوا کے جھکڑ کے ساتھ آگے کو بڑھ رہا ہے جس سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ جلد ہی وہاں شدید بارش کا سلسلہ کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور اِن بارشوں سے سیلابی حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

فلپائن کے محکمہ موسمیات کے مطابق کوپّو طوفان کی شدت میں اُس وقت تھوڑی کمی دیکھنے میں آئی تھی جب وہ دارالحکومت منیلا سے شمال کی طرف 215 کلو میٹر کے فاصلے پر قائم صوبے آرورا کے شور کاسیگوران سے گزر رہا تھا۔ اُس وقت کچھ دیر کے لیے یہ طوفان تقریباً غیرمتحرک ہو گیا تھا۔

Philippinen Taifun Koppu Satellitenbild

آئندہ دنوں میں بارشوں کے سبب حالات سنگین ہونے کے امکانات ہیں

ٹائیفون کوپوّ میں تیزی اُس وقت آئی جب 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جھکڑ چلنا شروع ہو گئے۔ محکمہ موسمیات نے منیلا کے علاوہ 26 صوبوں کے باشندوں کو طوفان کے خطرات سے متنبہ کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ایک اعلیٰ اہلکار ایسپیرانزا کیانان کا کہنا ہے ،’’ ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، اب بھی خطرات لاحق ہیں خاص طور سے ساحلی علاقے، چھوٹی کشتیاں سمندر میں نہیں اُتر سکتیں کیونکہ یہ محفوظ نہیں ہیں‘‘۔

ڈیزازٹر ریلیف ایجنسی کے مطابق شمالی فلپائن کی درجنوں اندرون ملک پروازیں منسوخ ہو چُکی ہیں جبکہ بحری سفری ذریعہ بھی معطل ہیں۔ تقریباً پانچ ہزار مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ صوبے آرورا اور دیگر کئی شمالی صوبوں میں بجلی کی سپلائی کٹی ہوئی ہے اور مواصلاتی نظام بھی درھم برھم ہے۔

Philippinen Typhoon Koppu Satellitenbild

کوپوّ کی سیٹلائیٹ تصویر

تیز جھکڑ چلنے سے درختوں او عمارتوں کی چھتوں کے گرنے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ ڈیزازٹر ریلیف ایجنسی کے سربراہ الیکزینڈر پاما کا کہنا ہے کہ کئی دریاؤں میں طغیانی آ گئی ہے جبکہ کئی سڑکیں اور پُل مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کے سبب سفر گزرنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ طوفانی بارش اب دارالحکومت منیلا کی طرف بڑھ رہی ہے تاہم وہاں تیز جھکڑ چلنے کے امکانات نہیں ہیں۔

فلپائن کے صدر بینگونو آکینو نے اپنی عوام کو کوپُو سمندری طوفان کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے حکومت اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں انہیں محفوظ مقامات کی طرف جانے کی تاکید بھی کی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طوفان فلپائن کے بعد تائیوان کی جانب بڑھنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

DW.COM