1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی سوڈان نے متنازعہ علاقے ایبی کا کنٹرول حاصل کر لیا

شمالی سوڈان کی فورسز نے تین دن تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد جنوبی سوڈان کے ساتھ ملنے والے متنازعہ سرحدی علاقے ایبی کو اپنے کنٹرول میں کر لیا ہے۔

default

خبررساں ادارے روئٹرز کےمطابق گزشتہ تمام دن اس اہم سرحدی علاقے کے حصول کے لیے شمالی اور جنوبی فورسز کے مابین لڑائی ہوئی۔ 2005ء کی امن ڈیل کے تحت رواں برس کے آغاز پر ہوئے ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنوبی سوڈان کو آزادی دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ 9 جولائی کو یہ ایک آزاد ملک بن جائے گا۔ خطے میں قیام امن کی کوششوں کے باوجود وہاں تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Sudan Abyei

یہ متنازعہ سرحدی علاقہ اب شمالی سوڈان کے کنٹرول میں چلا گیا ہے

تیل اور قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال Abyei نامی علاقہ جنوبی اور شمالی سوڈان کے مابین ایک تنازعہ بنا ہوا ہے۔ سوڈان کی تقسیم کے وقت اس علاقے میں بھی ریفرنڈم ہونا طے تھا، جس میں وہاں کےعوام نے فیصلہ کرنا تھا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن انتظامی وجوہات کی بنا پر وہاں ریفرنڈم نہ ہو سکا اور یہی وجہ ہے کہ سوڈان کے باقاعدہ طور پر تقسیم سے قبل ہی اس تنازعہ نے شمالی اور جنوبی سوڈان کے مابین تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ دونوں ہی اس علاقے پر اپنا حق جتاتے ہیں۔

خرطوم میں واقع سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق جنوبی سوڈان کی طرف سے کیے گئے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ شمالی سوڈان کی فورسز نے اس علاقے میں 15 ٹینک تعینات کر دیے ہیں۔

جنوبی سوڈان کے حکام نے بھی کہا ہے کہ اب یہ متنازعہ علاقہ شمالی سوڈان کی فورسز کے کنٹرول میں چلا گیا ہے،’ وہ ٹینکوں کے ساتھ آئے تھے‘۔

دوسری طرف امریکہ نے سوڈانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایبی سے اپنی افواج نکال لے۔ سوڈان کی تقسیم کے بارے میں ہوئے ریفرنڈم کے وقت فروری میں شمالی اور جنوبی سوڈان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے کہ ان کی افواج ایبی میں داخل نہیں ہوں گی۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ سوڈانی فورسزاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی اس واقعہ کو ایک مجرمانہ قدم قرار دیا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM