1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین بحری جھڑپ

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان بحری جھڑپ ایک ایسے موقع پر ہوئی جب امریکی صدر اوباما کا اس خطے کا دورہ شروع ہونے میں صرف دو دن رہ گئے ہیں۔ اس واقعے سے کوریائی تنازعے پر عالمی تشویش میں اضافہ یقینی بات ہے۔

default

شمالی کوریا کی فوجی پریڈ : فائل فوٹو

سیئول میں فوجی حکام نے شمالی اور جنوبی کوریائی بحری دستوں کے مابین بحیرہ زرد کے علاقے میں ایک مسلح جھڑپ کی تصدیق کر دی ہے۔ فرانس کی ایک خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ جھڑپ جنوبی کوریا کے مغربی سرحدی علاقے میں ہوئی۔

جنوبی کوریائی خبر ایجنسی Yonhap نے بھی اطلاع دی ہے کہ جنوبی کوریا کے ایک جنگی بحری جہاز نے شمالی کوریا کی ایک بڑی جنگی کشتی کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل اطراف کے مابین فائرنگ کے تبادلے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں فریقین میں سے کسی نے بھی کسی جانی نقصان کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

BdT Südkorea

جنوبی کوریا کے فوجی : فائل فوٹو

جنوبی کوریائی وزارت دفاع کے حکام نے بتایا کہ شمالی کوریا کی ایک جنگی کشتی نے بحیرہ زرد کے علاقے میں قائم شمالی حد بندی کو پار کیا اور پھر یہ کشتی جنوبی کوریائی سمندری حدود میں اس وقت تک بڑھتی رہی جب تک کہ اس پر انتباہی فائر نہ داغے گئے۔ جنوبی کوریا کی جانب سے شمالی کوریا کی اس کشتی کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی بحریہ کی جانب سے جنوبی کوریا کی بحریہ پر گزشتہ ماہ یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ بحیرہ زرد کے متنازعہ آبی حدود والے علاقے میں اپنے جنگی بحری جہازوں کو تسلسل سے روانہ کر رہی ہے اور یہ عمل حالات میں بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے۔ تب شمالی کوریا نے اس عمل کو جنوبی حصے کی ریاست کی لاپرواہی سے عبارت کارروائی کا نام دیا تھا۔

شمالی اور جنوبی کوریائی بحری دستوں کے مابین سن 1999 اور 2002 کے دوران بھی آپس میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اس دور میں بھی ان جھڑپوں پر عالمی سطح پر تشویش محسوس کی گئی تھی۔ دونوں کوریائی ریاستوں کے درمیان بحیرہ زرد کے علاقے میں سمندری حدود پر اختلاف پایا جاتا ہے جسے سیئول اور پیونگ یانگ کے درمیان ایک اہم تنا زعہ خیال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک