1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحدی مذاکرات

پیانگ یانگ اور سیئول کے مابین کشیدگی کے پس منظر میں شمالی کوریا کے جرنیلوں نے جنوبی کوریا میں تعینات اقوام متحدہ کی کمان کے وفد سے ملاقات کی ۔ اس وفد کی قیادت امریکی کمانڈرکر رہے تھے۔

default

شمالی کوریا نے ایک بار پھر جنگ کے خطرات سے خبردار کیا ہے

شمالی وجنوبی کوریا کے سرحدی علاقے Panmunjom میں ہونے والے یہ مذاکرات گزشتہ سات سالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کے پہلے مذاکرات ہیں۔ صرف دو روز قبل شمالی کوریا نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ علاقے میں اشتعال انگیز کارروائیوں سے باز رہے۔

جنوبی کوریا کے میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں کے اقدام پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں خطے میں اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کا مترادف ٹھہرایا۔ شمالی کوریا نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام خطے میں جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کے مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز اگلے ہفتے سے ہونا ہے۔ جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے the South's Yonhap نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی کوریا کے مطابق ان فوجی مشقوں سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان اس وقت شدید کشیدگی اور تناؤ پایا جاتا ہے۔ پیانگ یانگ کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائیل کے تجربے کی تیاریاں اور جنوبی کوریا کے قدآمت پسند صدر Lee Myung-bak کی جانب سے پیانگ یانگ کو دی جانے والی غیر مشروط امداد کو روکنے کے اعلان کے بعد شمالی کوریا نے سئیول سے ہر طرح کے مذاکرات اور رابطے معطل کر رکھے ہیں۔

جنوبی کوریا میں اقوام متحدہ کی کمان کے ایک بیان کے مطابق ’’مختصر ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات اور تناؤ میں کمی کے حوالے سے بات کی گئی۔‘‘ فریقین نے ملاقاتوں کو سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

دریں اثناء شمالی کوریا کی خبر رساں ایجنسی KCNA نے پیانگ یانگ کے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا ہے:’’ اگر امریکی فوج نے اپنا رویہ نہ بدلا اور خطے میں اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھیں تو شمالی کوریا کی عوامی آرمی اس کے خلاف ردعمل ضرور دکھائے گی۔‘‘