1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی اور جنوبی کوریا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر سرحدی کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے غیر متوقع نتائج سے خبردار کیا ہے۔

default

پیانگ یانگ میں ملکی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ جنوبی کوریا جان بوجھ کر سرحدی علاقوں میں سیاحوں کو جانے کی اجازت دے رہا ہے جو شمالی کوریا کے مطابق نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد 1950 تا 1953 تک لڑی گئی جنگ کے باعث سیاحوں میں مقبول ہے۔ یہ سرحد جنوبی کوریائی، امریکی اوراقوام متحدہ کے دستوں کے اتحاد اور شمالی کوریا اور چینی فوج کے اتحاد کے مابین جنگ بندی کے بعد متعین کی گئی تھی۔

Südkorea Veteranen Zeremonie

ہرسال لاکھوں سیاح جنوبی کوریا کی طرف سے سرد جنگ کے اس آخری محاذ کی یادگار کو دیکھنے آتے ہیں

ہرسال لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی سیاح جنوبی کوریا کی طرف سے زمانہ ء سرد جنگ کے اس آخری محاذ کی یادگار کو دیکھنے آتے ہیں۔ شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگران کے روئیے میں تبدیلی نہیں آئی تواس کے غیر متوقع نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جمعے کے روز پراسرار انداز میں ڈوبنے والے جنوبی کوریا کے بحری جنگی جہاز کے عملے کے 46 افراد کے زندہ بچ جانے کے امکانات اب تقریباً ناپید ہوگئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی بحریہ کا یہ جہاز شمالی کوریا کی سمندری حدود کے قریب نامعلوم وجہ کے باعث اچانک ڈوب گیا تاہم عملے کے 58 افراد کو زندہ بچالیا گیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان اسی ’’بحر زرد‘‘ میں 1999ء اور 2002ء کے دوران جنگ ہوچکی ہے۔

Südkoreanisches Kriegsschiff gesunken

جنوبی کوریا کی بحریہ کا عملہ تباہ ہونے والے جہاز کے ڈوب جانے والے عملے کی تلاش میں

سیول میں جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرکے جمعہ کو پیش آئے اس واقعے کی جامع تحقیقات کے احکامات جاری کئے ہیں۔ واقعے میں لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کو فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق متاثرہ جہاز دو ٹکڑے ہونے کے فوری بعد ڈوب گیا تھا۔ جنوبی کوریا کی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے ترجمان لی کی سیک کے بقول خدشہ ہے کہ لاپتہ ہونے والے تمام افراد ڈوبنے والے جہاز کے اندرہی پھنس گئے ہو۔

جنوبی کوریائی حکام فوری طور پر شمالی کوریا پرالزام تراشی سے اجتناب کرتے ہوئے تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق 88 میٹر طویل اس جہاز پر میزائل اور دیگر آتش گیر مواد موجود تھا تاہم حادثےکا سبب بیرونی عوامل کو قرار دیا جارہا ہے۔ سیول حکومت نے فوری طور پرشمالی کوریا پر الزام تراشی سے اجتناب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابھی تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت :عدنان اسحاق

DW.COM