1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی افغانستان میں 29 طالبان کی ہلاکت

شمالی افغان صوبے قندوز میں امریکی افواج اور افغان سیکیورٹی فورسز نے طالبان کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں 29 طالبان ہلاک کر دیے ہیں۔ صوبائی گورنر نے ان جھڑپوں اور ہلاکتوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کیں۔

default

Krieg in Afghanistan

شمالی افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے

قندوز کے گورنر محمد عمر کے مطابق افغان فوجیوں اور خصوصی امریکی دستوں نے ضلع آرچی میں جمعے کی شب مشترکہ کارروائیوں میں 14 طالبان کو ہلاک کیا۔ محمد عمر کے مطابق ان کارروائیوں میں چار مشتبہ طالبان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ محمد عمر نے بتایا کہ ایک دوسرے ضلح امام صاحب میں جمعہ کے روز سیکیورٹی فورسز اور طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں تین افغان فوجی اور تین عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

محمد عمر نے مزید بتایا کہ جمعہ ہی کے روز ہونے والی ایک اور مسلح جھڑپ میں نو دیگر طالبان عسکریت پسند ہلاک کئے گئے، جن میں مُلا سیلاب نامی جنگجو کمانڈر بھی شامل ہے۔ محمد عمر نے دعویٰ کیا کہ قندوز کے چارگڑھ ضلع کے علاقے خواجہ گھر میں ہونے والی اس کارروائی میں کم از کم بارہ عسکریت پسندوں کے زخمی بھی ہوئے۔

ISAF Afghanistan - gemischte Bilder

شمالی افغانستان میں ساڑھے چار ہزار جرمن فوجی تعینات ہیں

افغانستان کے شمال میں گزشتہ کچھ عرصے سے پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں سب سے زیادہ پرامن سمجھے جانے والے صوبہ قندوز میں گزشتہ کچھ عرصہ میں سات جرمن فوجی ہلاک جبکہ ایک درجن شدید زخمی ہوئے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن اور مشرقی و جنوب مشرقی افغانستان میں نیٹو دستوں کی کارروائیوں میں اضافے کے باعث طالبان عسکریت پسند اب نسبتا کم شورش زدہ علاقوں قندوز اور بگرام کا رخ کر رہے ہیں۔

شمالی افغانستان میں 4500 جرمن فوجی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ مزید 500 فوجی اگلے چند ماہ میں وہاں روانہ کئے جارہے ہیں۔ قندوز کے گورنر محمد عمر کے مطابق چارگڑھ اور آرچی کے علاقوں میں 1200 امریکی فوجی متعین کئے جا رہے ہیں۔ عمر نے یہ بھی بتایا کہ اگلے چند ماہ میں شمالی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں میں تین ہزار کا اضافہ ہو گا اور شمالی صوبے بلخ میں امریکی فوج ایک اڈہ بھی قائم کرے گی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM