1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی افغانستان میں سریع الحرکت فوج کی کمان جرمنی کے پاس

وفاقی جرمن فوج کے مسلح دستوں نے 30 جون پیر کے دن سے شمالی افغستان میں متعین سریع الحرکت فوجی دستوں کی کمان سنبھال لی ہے جو جرمنی سے پہلے ناروسے کے فوجی دستوں کے پاس تھی۔

default

افغانستان میں فیض آباد کے ہوائی اڈے کے نواح میں حفاظتی فرائض انجام دینے والا جرمن فوج کا ایک موبائل یونٹ

ان نئی ذمے داریوں سے افغانستان میں وفاقی جرمن دستوں کی فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار اور وسیع ہو گیا ہے۔ افغستان میں متعین جرمن فوجیوں کی موجودہ تعداد ساڑھے تین ہزار کے قریب ہے اور سال رواں کے موسم خزاں تک اس تعداد میں مزید اضافہ کرکے اسے ساڑھے چار ہزار کردیا جائے گا۔

کابل سے ہماری ساتھی زابینے ماتھائے نے اسی حوالے سے اپنی ایک رپورٹ کا موضوع اس بات کو بنایا کہ شمالی افغانستان میں Quick Reaction Force یا QRF نامی مسلح دستوں کی کمان جرمنی کے پاس آجانے سے، جرمنی کی فوجی ذمےداریوں اور شمالی افغانستان کی صورت حال میں ممکنہ طور پر کیا تبدیلیاں آسکتی ہیں۔