شمالی افغانستان میں داعش کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری | حالات حاضرہ | DW | 12.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی افغانستان میں داعش کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری

افغان وزارتِ وفاع کے ترجمان دولت وزیری نے بتایا ہے کہ دہشتگرد تنظیم داعش میں شامل غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف شمالی صوبے سر پل، فریاب اور جوزجان میں ایک بڑے آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔

شمالی افغانستان میں افغان فورسز کی جانب سے داعش کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔‘ افغان فوج کا یہ بیان خبر رساں ادارے اے ایف پی کی اس  رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں فرانسیسی شہریوں کی افغانستان میں داعش میں  موجودگی کا انکشاف کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے اپنے مختصر بیان میں بتایا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہے افغانستان میں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں تاہم قومیت سے قطع نظر ان تمام جنگجوؤں کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔‘ 

افغان ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی صفوں میں غیر ملکی جہادی شامل

شام، امریکی کارروائی میں خراسان گروہ کا ’فرانسیسی جہادی ہلاک‘

گزشتہ اتوار کو شائع ہونے والی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی افغانستان میں فرانسیسی، الجزائر اور شامی جنگجؤں نے دہشتگرد تنظیم داعش کے اعلٰی عہدے سنبھال لیے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں داعش کے عسکریت پسندوں کی جانب سے نئے ٹھکانے بھی قائم کیے گئے ہیں۔

یورپی اور افغان ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فرانسیسی شہری افغانستان کے صوبے جوزجان کے ضلع درزاب میں موجود ہیں۔ ان مقامی ذرائع کے مطابق فرانسیسی جنگجوؤں کی وابستگی داعش کی خراساں (آئی ایس-کے) نامی شاخ سے ہوسکتی ہے جو کہ پاکستان اور افغانستان کے ایک گروپ کا حصہ ہے۔  

 یہ پہلی مرتبہ ہے کہ افغانستان میں فرانسیسی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے بعض تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی جنگجو شام اور عراق سے نکالے جانے کے بعد جنگ زدہ ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔

شمالی افغانستان میں جوزجان صوبے کے گورنرکے ترجمان محمد رضا غفوری نے بتایا ہے کہ ’ہمارے پاس چالیس سے زائد داعش کے غیر ملکی جنگجوؤں کی درزاب اورقشتیپہ ضلع میں موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ جن میں بیشتر کا تعلق ازبکستان سے ہے۔‘ صوبائی گورنر کے ترجمان نے مزید بتایا، ’یہ جنگجو وہاں مقامی لوگوں کی داعش میں بھرتی اور جنگجوؤں کو تربیت دے رہے ہیں۔‘ 

دوسال قبل داعش کے خراساں گروپ (آئی ایس-کے) کی جانب سے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار اور کنڑ کے وسیع ترعلاقوں پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔

 تاہم افغانستان میں طالبان کی موجودگی کی وجہ سے ابتدائی طور پر داعش کے خراساں گروپ کو نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان دہشت گردوں نے افغانستان اور ازبکستان کی سرحد پر واقع شمالی صوبے جوزجان میں اپنے پیر جماتے ہوئے افغان دارالحکومت کابل میں تباہ کن حملوں کا آغاز کیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 01:16

افغانستان کی دو مساجد پر حملے، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

 

DW.COM

Audios and videos on the topic