1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی افریقی مہاجرین: فرانس نے اٹلی سے آنے والی ٹرینیں روک دیں

اطالوی وزیرِ خارجہ فرانکو فراطینی نے فرانس کی جانب سے اطالوی ٹرینوں کو فرانس میں داخل ہونے سے روکنے کے اقدام کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

default

اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کے درمیان شمالی افریقہ سے متعلق تنازعہ شدّت اختیار کر رہا ہے

شمالی افرقی ممالک، بالخصوص تیونس اور لیبیا سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین سے متعلق تنازعہ شدّت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شمالی افریقی ممالک میں سیاسی کشیدگی اور خانہ جنگی کی سی صورتِ حال کے باعث وہاں سے ہزاروں کی تعداد میں افراد نقل مکانی کر کے اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ ان مہاجرین کو اطالوی حکومت نے عارضی رہائشی پرمٹ دے دیے ہیں جس کے بعد وہ شینگن ممالک میں سفر کر سکتے ہیں۔ فرانس کی حکومت نے اتوار کے روز اٹلی سے فرانس آنے والی ایسے ہی مہاجرین سے بھری ٹرینوں کو ملک میں داخل ہونے سے عارضی طور پر روک دیا تھا۔ بعد ازاں ٹرینوں کی آمد پر پابندی اٹھا لی گئی۔ مبصرین کے مطابق اس خدشے کی بنا پر کہ یہ مہاجرین فرانس میں آباد ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، فرانسیسی حکومت نے عارضی طور پر اٹلی سے آنے والی تمام ریل گاڑیوں کے فرانس آنے پر پابندی لگائی تھی۔

Stichwahl in Frankreichs Kommunen - Nicolas Sarkozy

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کی حکومت کا مہاجرین کے مسئلے پر موقف انتہائی سخت ہے، مبصرین

واضح رہے کہ فرانس اور جرمنی سمیت کئی ممالک نے اطالوی حکومت کی جانب سے شمالی افریقی مہاجرین کو پرمٹ دیے جانے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی۔ تاہم فرانسیسی حکومت کی اس کارروائی پر اطالوی حکومت برہم ہے اور اس نے اسے یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اطالوی وزیرِ خارجہ فراطینی کا کہنا ہے: ’روم پیرس سے اس غیر قانونی اقدام کی وضاحت چاہتا ہے جو کہ یورپی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے‘۔

فرانس کی جانب سے یہ فیصلہ فرانس اور اٹلی سے تعلق رکھنے والے حقوقِ انسانی کے ان کارکنوں کے مظاہرے کو ناکام بنانے کی بھی ایک کوشش تھی جو کہ اٹلی اور فرانس کی سرحد کے قریب ایک اطالوی قصبے میں مظاہرے کا آغاز کرتے ہوئے فرانس میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ ان مظاہرین کا موقف ہے کہ شمالی افریقہ کے مہاجرین کو یورپ میں پناہ لینے کا حق حاصل ہے۔ مشتعل مظاہرین نے اطالوی سرحدی قصبے میں قائم فرانسیسی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا۔

تیونس سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کے قریب مہاجرین کو اطالوی سماجی کارکنوں نے کھانے پینے کی اشیاء پیش کیں۔ یہ افراد فرانس میں داخل ہونا چاہتے تھے۔

فرانسیسی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اٹلی اور فرانس کی سرحدیں بند نہیں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب جرمن وزیرِ داخلہ ہانس پیٹر فریڈرش کا کہنا ہے کہ یہ اطالوی حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ شمالی افریقی مہاجرین سے متعلق تنازعے کو کس طرح حل کرتی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM