1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’شمالی افریقی ممالک میں غلہ ذخیرہ ہونے لگا‘

معروف امریکی تجارتی کمپنی کارگل نے کہا ہے کہ مصر میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے سبب خطے میں اناج اورغلے کی مصنوعات کی خرید اور اسے جمع کرنے کی شرح میں کمی کے بجائے اس میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

default

امریکی کمپنی کارگل کے یورپ کے لیے ایک اعلیٰ اہلکار راجر جانسن نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مصر کی موجودہ صورتحال کے باوجود تجارت میں کوئی بڑی رکاوٹ نوٹ نہیں کی گئی ہے،’ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کچھ ممالک میں اضافی طور پر خریداری کی جا رہی ہے۔‘

کارگل عالمی سطح پر غلے، توانائی اوردیگر مصنوعات کی تجارت کی ایک بڑی امریکی نجی کمپنی ہے۔ اس کمپنی کے اعلیٰ اہلکار عوامی سطح پر یا صحافیوں کو انٹرویو بہت کم ہی دیتے ہیں۔ جنیوا میں جاری خوراک کی سلامتی سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جانسن نے کہا کہ خام مال میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی وجہ سے منڈی میں کچھ تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں اور تجارت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔

ان کے بقول مصر اور ملحقہ ممالک میں غلہ ذخیرہ کرنے کی وجہ سیاسی عدم استحکام کے علاوہ بعض فصلوں کا شارٹ فال بھی ہوسکتا ہے۔

Die gefräßige Welt

مستقبل میں غلے کی قیمتوں میں غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آسکتی ہے

کارگل کمپنی سے وابستہ راجر جانسن نے کہا کہ ان کی کمپنی ایسی ریگولیٹری کوششوں کی حمایت کرتی ہے، جس سے مارکیٹ میں قیمتوں سے جڑی قیاس آرائیوں میں کمی لائی جاسکے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ضمن میں حکومتوں کو قیمت کا تعین کرنے کے لیے کوئی فعال کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں غلے کی قیمتوں میں غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آسکتی ہے۔

جانسن کے مطابق کئی کمپنیاں اس حوالے سے امریکی موسمیاتی پیشن گوئیوں پر گہری نظر رکھے ہوئی ہیں، کیونکہ موسم کی پیشن گوئیوں کے نتیجے میں فصل اور اس کی قیمتوں پر فرق پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس