1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

شعیب کی طلاق، نکاح اور اب اپیل

پاکستانی کرکٹر شعیب ملک نے "پہلے طلاق اور پھر نکاح" سے فراغت کے بعد قومی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان پر ایک سالہ پابندی کے خلاف اپیل دائر کردی ہے۔

default

ان کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی دورہء آسٹریلیا کے دوران ٹیم کی ناقص کارکردگی کا جائزہ لینے والی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارش پر لگی تھی۔

پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کی بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا سے نکاح کا معاملہ کافی متنازعہ بن گیا تھا کیونکہ کرکٹر کی ’پہلی بھارتی بیوی‘ عائشہ صدیقی نے ان کے خلاف دھوکہ دہی کا کیس درج کروایا تھا۔

پاکستانی کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے شعیب ملک کی جانب سے دائر اپیل کی تصدیق کی ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی شہر حیدرآباد میں جاری مہندی کی تقریبات شعیب ثانیہ کے ملن کی تصدیق کر رہی ہیں۔

’پی سی بی‘ کے مطابق شعیب کی اپیل ان کے وکیل احمد حسین کے توسط سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مل بھی گئی ہے۔کرکٹ بورڈ نے ایک سالہ پابندی کے ساتھ ساتھ سٹار کرکٹر پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ شعیب ملک کو تحقیقاتی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لئے ایک ماہ کی مہلت دی گئی تھی، جو 16اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔

Indien Pakistan Shoaib Malik und Sania Mirza Ehe

ملک نے ثانیہ کے ہمراہ حیدر آباد پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات کی

گزشتہ چند ماہ کے دوران اس پاکستانی کرکٹر کو یکے بعد دیگرے چار مختلف نوعیت کے واقعات سے گزرنا پڑا۔ دورہء آسٹریلیا میں شرمناک شکست کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ شعیب ملک کو بھی اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جس کے بعد ان کے کرکٹ کھیلنے پر ایک سال کے لئے پابندی عائد کی گئی۔ حال ہی میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اٹھارہ کھلاڑیوں کو ایک سال کے لئے ’سینٹرل کنٹریکٹ‘ دیے، تو شعیب ملک ان میں شامل نہیں تھے۔

اس کے بعد شعیب ملک نے بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا سے شادی کے لیے حیدرآباد دکن کا رُخ کیا، لیکن یہ دورہ بھی ان کے دورہء آسٹریلیا کی طرح تنازعات سے پُر رہا۔ ثانیہ مرزا کے آبائی شہر حیدرآباد دکن میں دونوں ستاروں کی شادی کی تیاریاں شروع ہی ہوئی تھیں کہ اسی شہر کی ایک اور لڑکی عائشہ صدیقی نے شعیب ملک کی منکوحہ ہونے کا دعویٰ کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ساتھ ہی عائشہ صدیقی نے طلاق کا مطالبہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ انہیں طلاق دئے بغیر شعیب دوسری شادی نہیں کر سکتے۔ اس دوران شعیب ملک کے خلاف مقدمہ بھی درج کر دیا گیا، جس کے بعد پولیس نے حیدرآباد میں ثانیہ مرزا کے گھر میں شعیب سے پوچھ گچھ بھی کی اور ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا۔

اس صورتحال کومدنظررکھتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک کو فون کرکے خاطرخواہ اقدامات کرنے کی واضح ہدایات دیں۔

اُدھر ذرائع ابلاغ کی جانب سے دباؤبڑھ جانے کے بعد شعیب ملک نے ثانیہ مرزا کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں عائشہ نامی کسی خاتون سے اپنے نکاح کی تردید کرتےہوئے کہا کہ وہ اس نام کی کسی لڑکی کو جانتے تک نہیں۔ ملک کا کہنا تھا کہ ٹیلی فون پر ان کا ایک لڑکی سے نکاح ضرور ہوا تھا، مگر وہ عائشہ نہیں تھی۔

لیکن اس کہانی نے ڈرامائی موڑ اختیار کیا۔ دوسرے ہی دن مقامی ثالثوں کے مشوروں کے بعد شعیب ملک نے 7 اپریل کو عائشہ صدیقی، جسے وہ پریس کانفرنس میں"ماہا آپا" پکارتے رہے، کو طلاق دے دی۔ اس طلاق کے بعد شعیب اور ثانیہ کی شادی کی راہ کسی حد تک ہموار ہتی دکھائی تو دی تاہم اسی دوران حیدرآباد کے مسلمان علماء نے شادی سے پہلے شعیب کا ثانیہ کے گھر میں رہنے پر تنقید کر دی، جس کے باعث انہیں ایک مقامی ہوٹل میں منتقل ہونا پڑا۔

Younus Khan pakistanischer Cricketspieler

سابق کپتان یونس خان کو بھی پابندی کا سامنا ہے

حیدرآباد کے تاج کرشنا ہوٹل میں 12 اپریل کو ہونے والی نکاح کی تقریب میں دولہا اور دولہن کے قریبی دوستوں اور اہل خانہ نے شرکت کی۔ نکاح کے وقت ثانیہ مرزا کا حق مہر 61 لاکھ روپے مقرر ہوا۔ جوبلی ہلز کے قاضی نے دونوں کا نکاح پڑھایا۔

یوں پابندی، طلاق اور پھر نکاح کے بعد شعیب ملک نے کرکٹ بورڈ کی طرف سے اپنے اوپر لگی پابندی کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق کھلاڑیوں کی جانب سے کی جانے والی اپیلیں مقرر کردہ تین میں سے کسی ایک ثالث کے پا س جائیں گی۔ ’پی سی بی‘ نے اس ضمن میں تین سابق جج منیر شیخ، جمشید علی شاہ اور عرفان قادر کی تقرری عمل میں لائی ہے۔

ریٹائرڈ کرکٹر محمد یوسف کے سوا تمام ہی کھلاڑی پابندی اورجرمانے کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کر چکے ہیں۔ ’پی سی بی‘ کی جانب سے ان کے کھیلنے پر غیر معینہ مدت تک کے لئے پابندی کے بعد یوسف نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

رپورٹ: بخت زمان یوسفزئی

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM