1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

شعیب ملک کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

پاکستان کے سابق کپتان شعیب ملک نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے منگل کو شارجہ میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے دوسری اننگز میں اپنی ناکامی کے بعد کیا ہے۔

تینتیس سالہ شعیب ملک نے پانچ برس بعد موجودہ سیریز میں ہی ابوظہبی میں انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں دو سو پینتالیس رنز کے ساتھ اپنے کیرئیر کی بہترین اننگز کھیلی تھی۔ لیکن اس کے بعد پاکستانی آل راؤنڈر مسلسل ناکام رہے اور دیگر پانچ اننگز میں صفر، دو، سات، اڑتیس اور صفر پر ہی آؤٹ ہو گئے۔ شاید ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل ناکام کارکردگی ہی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

شعیب ملک کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ اس میچ کے بعد میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ میری کارکردگی بری ہے بلکہ میں نے یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا ہے تاکہ اپنے فیملی کو زیادہ وقت دے سکوں اور سن 2019ء کے ورلڈ کپ پر توجہ مرکوز کر سکوں۔‘‘ یاد رہے کہ شعیب ملک نے سن دو ہزار دس میں بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے شادی کی تھی، جس کے چرچے پاکستانی اور بھارتی دونوں ملکوں کے میڈیا پر کئی دن تک رہے تھے۔

سن دو ہزار ایک کے دوران پاکستانی شہر ملتان میں بنگلہ دیش کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے شعیب ملک کا کہنا تھا، ’’میرے خیال میں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے آج یہ جگہ چھوڑنے کا بہترین وقت ہے، پاکستان میں بہت سے قابل کھلاڑی ہیں، جو اس جگہ کو پُر کر سکتے ہیں۔‘‘

مجموعی طور پر شعیب ملک اب تک پینتیس ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔ اس دوران وہ تین سنچریوں اور آٹھ نصف سنچریوں کی مدد سے اٹھارہ سو اٹھانوے رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں ابھی تک انہوں نے انتیس وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان میں سے بہترین کھیل انہوں نے موجودہ سیریز کے دوران شارجہ میں انگلینڈ کے خلاف ہی پیش کیا، جب انہوں نے تینتیس رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔

شعیب ملک کا اپنے فیصلے سے متعلق وضاحت پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ موجودہ سیریز میں انگلینڈ کے خلاف ڈبل سنچری اسکور کرنے سے پہلے ہی ریٹائرمنٹ کا سوچ رہے تھے، ’’میں ابھی مزید کھیل سکتا تھا لیکن میرے خیال میں یہ صحیح وقت ہے۔ ہماری ٹیسٹ ٹیم خود کو اسٹیبلش کر چکی ہے جبکہ حارث سہیل، بابر اعظم، شعیب مقصود اور محمد رضوان جیسے باصلاحیت کھلاڑی میری جگہ پُر کر سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ابھی ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہیں گے اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی طاقت آئندہ ورلڈ کپ کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جبکہ ان کا سن دوہزار دس سے دو ہزار پندرہ تک ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنا مایوس کن تھا۔