1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

شعیب اور ثانیہ بالآخر رشتہ ازدواج میں بندھ گئے

پاکستانی کرکٹر شعیب ملک اور بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا آج رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ میں کئی ہفتوں سے نمایاں جگہ پانے والی خبروں کا سلسلہ بھی اب تھم گیا ہے۔

default

شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کا نکاح آج پیر کو حیدرآباد دکن کے تاج کرشنا ہوٹل میں ہوا۔ جوبلی ہلز کے قاضی نے دونوں کا نکاح پڑھایا، جس میں ثانیہ مرزا کا حق مہر 61 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ نکاح کی تقریب میں دولہا اوردلہن کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں نے شرکت کی۔ ولیمے کی تقریب جمعرات 15 اپریل کو تاج کرشنا ہوٹل ہی میں منعقد ہو گی، جس میں مہمانوں کی تواضع 23 مختلف پکوانوں سے کی جا ئے گی۔

نکاح کےموقع پر ثانیہ مرزا نے اپنی والدہ کی ان کے نکاح کے وقت پہنی گئی سرخ ساڑھی پہن رکھی تھی جبکہ شعیب ملک سیاہ شیروانی اور روایتی سیاہ ٹوپی پہنے ہوئے تھے، جو انہیں مرزا خاندان کی طرف سے دی گئی تھی۔

کچھ روز قبل حیدرآباد میں چند مسلمان علماء نے اس بات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ شعیب ملک اپنی ہونے والی بیوی ثانیہ کے گھر پر شادی سے پہلے ہی رہائش پذیر تھے۔ شعیب اور ثانیہ کی شادی کے منصوبے اس وقت تنازعات کا شکار ہو گئے تھے، جب حیدرآباد دکن ہی کی ایک مسلمان خاتون عائشہ صدیقی نے یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ وہ شعیب ملک کی منکوحہ ہے اوراس کو طلاق دیے بغیر یہ پاکستانی کھلاڑی دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک ابتدا میں تو انکار کر تے رہے کہ ان کا عائشہ نامی کسی لڑکی سے کبھی نکاح ہوا تھا، لیکن بعد میں مقامی ثالثوں کی مداخلت سے وہ عائشہ کو طلاق دینے پر آمادہ ہو گئے۔

Indien Pakistan Shoaib Malik und Sania Mirza Ehe

شعیب اور ثانیہ کو عائشہ صدیقی کے تنازعے پر میڈیا کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس کے بعد ثانیہ مرزا کے چچا مسٹر شفیع نےعائشہ صدیقی کے گھر پر ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ شعیب ملک اورعائشہ صدیقی کے نکاح کا تنازعہ اب ایک سمجھوتے کے نتیجے میں ختم ہو گیا ہے۔ فریقین کے درمیان اس معاہدے کے تحت اب شعیب ملک کو آئندہ تین ماہ تک شرعی اعتبار سے عائشہ صدیقی کو پانچ ہزار روپے ماہانہ ادا کرنا ہوں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ اب شعیب ملک کے خلاف بھارت میں دائر تمام مقدمے واپس لے لئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں صدیقی خاندان کی طرف سے پولیس کو باقاعدہ درخواست بھی دے دی گئی ہے۔

اس سے پہلے شعیب ملک کے خلاف عائشہ صدیقی کو ہراساں کرنے، اسے چھوڑ کر دوسری لڑکی سے شادی کرنے اور خاموش رہنے سے متعلق دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کئے گئے تھے۔

یہ مقدمات درج ہونے کے بعد حیدرآباد پولیس نے ثانیہ مرزا کے گھر پر شعیب ملک سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے ان کا پاکستانی پاسپورٹ بھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ اس پر پاکستانی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک کو فون کر کے انہیں شعیب ملک کی قانونی مدد کے لئے خاطرخواہ اقدامات کی ہدایت کی تھی۔ پاکستان میں بہبود آبادی کی وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، جن کا تعلق شعیب ملک کی طرح سیالکوٹ ہی سے ہے، نے کہا کہ پاکستان آمد پر شعیب اور ثانیہ کی تاج پوشی کی جائے گی اور ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جائے گا۔

28 سالہ پاکستانی کرکٹر شعیب ملک دو ہفتے قبل حیدرآباد پہنچے تھے جہاں انہوں نے ثانیہ مرزا کے ساتھ نکاح کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ شعیب ملک کو آج کل پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک سالہ پابندی کا سامنا ہے۔

رپورٹ : بخت زمان

ادارت : مقبول ملک

DW.COM