1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شعیب احمد شبّو میڈم کیسے بنا؟

بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل خواجہ سرا شبّو کو نہ تو اس کے گھر والوں نے قبول کیا اور نہ ہی کہیں ملازمت ملی۔ اب اُس کی کمائی کا ذریعہ شادیاں اور ڈانس پارٹیاں ہیں، جہاں اُسے شبّو بن کر رقص کرنا پڑتا ہے۔

اٹھائیس سالہ خواجہ سرا شبّو کا اصل نام محمد شعیب احمد ہے اور اس کا تعلق صوبہٴ پنجاب کے شہر شیخوپورہ سے ہے۔ اُس کا اصرار ہے کہ اُسے شبّو ہی کے نام سے شناخت کیا جائے اور اسی مناسبت سے پکارا جائے۔

شبّو میڈم گزشتہ سات برسوں سے شادیوں اور نجی محفلوں میں بطور ڈانسر کام کر رہی ہے۔ اُس نے ایم بی اے کر رکھا ہے لیکن متعدد انٹرویوز دینے کے باوجود اسے ابھی تک کوئی ملازمت نہیں ملی۔ شبو میڈم نے آخری انٹرویو ایک بینک میں ملازمت کے لیے دیا تھا، جس کے بارے میں وہ بتاتی ہے:’’میں بہت سنجیدہ تھی لیکن وہاں موجود کسی بھی شخص نے مجھے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اُن کی ہنسی میرے لیے شرمندگی کا باعث بن رہی تھی، وہاں موجود ایک شخص نے مجھے اپنا کارڈ تھمایا اور کہا کہ مجھے سے بعد میں رابطہ کرنا۔ اس وقت میرے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ میں نے اتنی محنت کی ہے اور ان لوگوں کے پھر بھی میرے بارے میں اپنے ذہن نہیں بدلے۔‘‘

شبّو کے والدین وفات پا چکے ہیں جبکہ اس کے دو بھائی بیرون ملک ہوتے ہیں لیکن ان کا شبّو کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ شبّو بتاتی ہے کہ جب تک اس کی والدہ زندہ تھی تو اسے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوئی:’’میری والدہ کو پتہ تھا کہ میں لڑکا نہیں ہوں لیکن والدہ کے انتقال کے بعد میرے بھائیوں کا رویہ میرے ساتھ انتہائی سخت تھا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اس طرح ڈانس کیا کروں گی، میرے خاندان والوں نے بھی یہ کبھی نہیں سوچا ہو گا۔ یہ حالات اور اس معاشرے کا طرز عمل ہے، جس نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے۔ میں اپنی موجودہ زندگی سے قطعی خوش نہیں ہوں۔‘‘

پاکستان میں خواجہ سراؤں کو اور ایسے مرد و زن کو، جو مخالف جنس کے کپڑے پہننا پسند کرتے ہیں، اپنی دوہری شخصیت میں توازن برقرار رکھنے میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے کئی افراد تو معاشرے یا اپنے خاندان کے رد عمل کے ڈر سے اپنے گاؤں چھوڑ کر شہروں میں منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ کئی ایسے بھی ہیں، جو ہمیشہ اپنے ساتھیوں اور ہمسایوں وغیرہ سے اپنی دوہری شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

شبّو بھی اپنا گھر بار چھوڑ کر شیخوپورہ میں آباد ہو گئی، جہاں اس کے تعلیمی اخراجات اس کے چند دوست اٹھاتے رہے۔ ڈی ڈبلیو سے باتیں کرتے ہوئے شبّو نے بتایا:’’مجھے محبت انہی لوگوں سے ملی اور مجھے قبول بھی انہی لوگوں نے کیا، جو میرے جیسے ہیں۔ ایم بی اے کے دوران مجھے اپنے سمسٹر اس وجہ سے فریز کروانا پڑے کہ میرے پاس فیس نہیں تھی۔ اسی دوران مَیں نے باقاعدہ ڈانس سیکھنا اور کرنا شروع کیا۔‘‘

پاکستان میں عورتوں اور مردوں کے کردار واضح ہیں جبکہ مخنث افراد کو اکثر و بیشتر نامناسب رویے کا سامنا رہتا ہے۔ اس تیسری جنس کے افراد کو عمومی طور پر ایک ہی کردار میں پسند کیا جاتا ہے اور وہ ہے شادی بیاہ یا نجی پارٹیوں میں ڈانسر کا کردار لیکن اس کردار میں بھی انہیں روپوں کی بارش میں مدہوش مہمانوں کی ہراساں کر دینے والی حرکتوں کا سامنا رہتا ہے۔ شبّو کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں سے متعلق لوگوں کا ذہن ہی کچھ مختلف ہے:’’میں صرف ڈانس کرتی ہوں لیکن جگہ جگہ مجھے جسم فروشی کے لیے کہا جاتا ہے۔ میں ان سے کہتی ہوں کہ پیسے ہمارے قدموں تلے ہوتے ہیں، ہماری ان سے پوری نہیں پڑتی تو تمہارے ہزار دو ہزار کیا کریں گے۔‘‘ شبّو کے بقول لوگوں کو یہ بات ہی سمجھ نہیں آتی کہ ڈانس کرنا اور جسم فروشی کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔

شبّو کا پاکستان حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہنا تھا:’’یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہم جیسے لوگوں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا کرے، میں ایک مرتبہ مقامی سیاستدانوں سے بھی ملی کہ شی میلز کے لیے کوئی فلاحی ادارہ بنایا جائے تاکہ وہ مزید برائی کی طرف نہ راغب ہوں لیکن ہماری کون سنتا ہے؟‘‘

مرد ہونے کے باوجود خود کو عورت محسوس کرنے والوں کو جنوبی ایشیا میں عام طور پر ’ہیجڑے‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا ذکر ہندوؤں کی قدیم کتابوں میں بھی ملتا ہے جبکہ سولہویں اور سترہویں صدی میں مغل دورِ حکومت کے دوران ہیجڑے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور یہ زیادہ تر ذاتی ملازموں یا محافظوں کے طور پر شاہی درباروں سے وابستہ ہوتے تھے۔ تاہم آج کے ایشیا میں یہ ’تیسری جنس‘ ملازمتوں وغیرہ کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بن رہی ہے۔

شبّو کا دکھ بھرے انداز میں کہنا تھا:’’کسی کے گھر چور پیدا ہو جائے، زانی پیدا ہو جائے، ڈکیت پیدا ہو جائے، وہ تہمت کا باعث نہیں ہے لیکن کوئی ہم جیسا پیدا ہو جائے تو خاندان کی عزت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تم نے ہماری ناک کٹوا دی، میرا سوال ہے کہ کیا ہم انسان نہیں یا ہم اپنی مرضی سے ایسے پیدا ہوئے ہیں؟‘‘

واضح رہے کہ پاکستان ميں قريب پانچ لاکھ خواجہ سرا ہيں۔ سن 2011 ميں سپريم کورٹ نے حکومت کو يہ احکامات جاری کيے تھے کہ وہ ملک ميں بسنے والے تمام خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ جاری کريں اور انہيں ووٹرز کے طور پر رجسٹر کريں۔ پاکستانی معاشرے ميں اکثر اوقات خواجہ سراؤں کو جسم فروشی يا بھيک مانگنے کا راستہ اختيار کرنا پڑتا ہے۔

سماجی ماہرہن کے مطابق اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کے ساتھ امتیازی سلوک میں کمی آ رہی ہے لیکن اس کی رفتار بہت کم ہے۔