1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شریف خاندان کے حوالے سے ’پاناما لیکس‘ کے تہلکہ خیز انکشافات

نواز شریف کے بیٹے حسین نواز شریف نے شریف خاندان کی ’آف شور کمپنیوں‘ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک کمپنیاں ان کی ہیں، ’اس میں کچھ غلط نہیں ہے، نہ ہم نے اسے کبھی چھپایا ہے اور نہ ہی ہمیں چھپانے کی ضرورت ہے‘۔

پاناما کی لاء فرم موزیک فونسیکا کی جمع کردہ ان خفیہ معلومات کے اجراء کو تاریخ کا سب سے بڑا انکشاف قرار دیا جا رہا ہے۔ ان دستاویزات کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاناما دستاویزات میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے تین بچوں، مریم نواز شریف جنھیں نواز شریف کا سیاسی جانشین کہا جاتا ہے اور حسن اور حسین نواز شریف شامل ہیں۔ پاناما دستاویزات کے مطابق وہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے لندن میں پراپرٹی کے مالک ہیں۔

'انڈیپنڈنٹ سینٹر فار انوسٹی گیٹیو رپورٹنگ ان پاکستان‘ (سی آئی آر پی) کے رکن عمر چیمہ جنہوں نے پاناما دستاویزات کے لیے پاکستان سے رپورٹنگ کی ہے وہ اس حوالے سے کہتے ہیں ،’’ خود نواز شریف بیرون ملک کمپنیوں کے مالک نہیں ہیں، تاہم یہ کمپنیاں ان کے بچوں کی ملکیت ہونا بھی سوالات اٹھاتی ہے۔‘‘

اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جو کافی عرصے سے شریف خاندان پر مالی بدعنوانیوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، نے شریف خاندان کے بارے میں پاناما لیکس کے انکشافات پر ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ شریف خاندان کے بارے میں ہمارا موقف درست ثابت ہو گیا ہے ۔ قومی احتساب بیورو، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو اور الیکشن کیمشن کو شریف خاندان کے خلاف فوری ایکشن لینا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے جیو نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا ، ’’بیرون ملک اپارٹمنٹس بھی ان کے ہیں اور کمپنیاں بھی۔ اس میں کچھ غلط نہیں ہے، نہ ہم نے اسے کبھی چھپایا ہے اور نہ ہی ہمیں چھپانے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے خاندان کا دفاع کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ یہ برطانیہ اور دیگر ممالک کے قانون کے مطابق ایک قانونی طریقہ ہے تاکہ ’آف شور کمپنیوں ‘ کے تحت غیر ضروری ٹیکس سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ حسین نواز سن 1992 میں پاکستان چھوڑ گئے تھے، لہذا وہ پاکستان کے رہائشی نہیں ہیں۔ اس حوالے سے حسین نواز کا کہنا ہے، ’’اگر آپ 138 دنوں سے زائد پاکستان سے باہر رہیں تو آپ پر اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، ہم اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر کسی بھی عدالت یا تحقیقاتی ادارے کے آگے پیش کرتے ہیں۔‘‘

مالی تجزیہ کار علی نادر نے اے ایف پی کو اس حوالے سے بتایا کہ بہت سے کیسز میں آف شور کمپنیوں کا استعمال قانونی طور پر جائز ہوتا ہے تاہم پاناما لیکس کے پیش نظر بہت سی کاروباری اور سیاسی شخصیات سے اپنی بیرون ملک کمپنیوں کو راز میں رکھنے پر ضرور سوال پوچھے جائیں گے کیوں کہ اب عالمی سطح پر منی لانڈرنگ، مالی بد عنوانیوں، اور ٹیکس چوری پر بہت بات ہو رہی ہے۔

پاناما لیکس سے بیرون ملک پیسے رکھنے سے متعلق عالمی سطح پر ایک بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ان دستاویزات میں کئی سیاسی شخصیات ، کھلاڑیوں اور انڈر ورلڈ کے اراکین کی سمندر پار ممالک مالی سرگرمیوں کے بارے میں انکشافات کیے گئے ہیں۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف اور وزیر اعلی شہبازشریف کا ملک سے باہر کوئی پیسہ نہیں ہے۔ پاناما دستاویزات میں نوازشریف اور شہبازشریف کی سمندر پار جائیداد کا ذکرنہیں۔ نواز شریف کے بچے لاکھوں بچوں کی طرح بیرون ملک کاروبار کر رہے ہیں۔

DW.COM