1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شریف الدین پیزادہ کی برطرفی، صدر، وزیر اعظم رسہ کشی یا کچھ اور

شریف الدین پیرزادہ کی بطور سفیر عمومی برطرفی نے جہاں ان کے حوالے سے حکومت پر کی جانے والی تنقید کا کچھ توڑ کیا ہے وہیں پر صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کے درمیان سرد جنگ کے تاثر نے بھی تقویت پکڑی ہے۔

default

تاثر موجود ہے کہ پاکستانی صدر اور وزیر اعظم میں طاقت کی رسہ کشی کا سلسلہ جاری ہے

قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی کی برطرفی اور اعلیٰ بیورو کریسی میں تقرریوں اور تبادلوں سے لے کر بدھ کے روز شریف الدین پیر زادہ اور احسان اللہ خان کے علاوہ حمید اصغرقدوائی ایسے عمومی سفراء کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے احکامات کو وزیر اعظم کی طرف سے طاقت کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ عوامی کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ’’ اس فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ آج شریف الدین پیر زادہ صاحب کو برطرف یا سفیر عمومی سے ہٹاکر وزیر اعظم صاحب نے مسل دکھانا شروع کر دیئے ہیں وہ طاقت پکڑ رہے ہیں اور جوڈو کراٹے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ‘‘

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما صدر اور وزیر اعظم کے درمیان کسی بھی طرح کے اختلافات کی خبروں کو رد کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ممبر قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل کے مطابق تمام حکومتی امور صدر اور وزیر اعظم کی باہمی مشاورت سے چل رہے ہیں۔

’’یہ ایک تاثر بہت لیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم اپنے مسل دکھا رہے ہیں، ہاں! وہ اپنے مسل دکھا رہے ہیں عوام کی بھلائی کےلئے مسل دکھا رہے ہیں کیونکہ وزیر اعظم کے مسل ہی ہمارے مسل ہیں، پیپلز پارٹی کے مسل ہیں۔ وزیراعظم صاحب صدر صاحب کے ساتھ صلاح مشورے سے کام کررہے ہیں۔‘‘

مبصرین کے خیال میں ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس سے اب تک کئے گئے متعدد فیصلوں میں واضح تضاد دکھائی دیتا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کی سوچ میں بہرحال کہیں پر فاصلہ موجود ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر اور وزیر اعظم کے درمیان کوئی اختلافات ہیں تو وہ آئندہ دنوں میں کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔