1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شروع میں رشتہ رد کر دیا تھا، اسامہ کے یمنی سسر کا بیان

بن لادن کی ہلاکت کا باعث بننے والے حملے کے دوران زخمی ہو جانے والی بن لادن کی سب سے کم عمر بیوی کے یمنی والد نے کہا ہے کہ اس نے القاعدہ کے رہنما کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کرنے سے قبل شروع میں یہ رشتہ مسترد کر دیا تھا۔

default

احمد بن عبدالفتح السعادہ نامی اس یمنی شہری نے خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ابتداء میں رشتے کی یہ تجویز رد کرنے کے کچھ عرصے کے بعد وہ اپنی بیٹی کی شادی بن لادن کے ساتھ کرنے پر رضا مند ہو گیا تھا۔ عبد الفتح نے بتایا کہ اس کی بیٹی اور بن لادن کی شادی سن1999 میں ہوئی تھی اور تب تک امریکہ پر گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملے نہیں ہوئے تھے۔

عبدالفتح نے بتایا کہ دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں ہلاک ہو نے والے سربراہ بن لادن کے ساتھ تقریبا بارہ برس پہلے اس کی بیٹی کی شادی کے وقت اس یمنی باشندے کو صرف اتنا علم تھا کہ اسامہ بن لادن افغانستان میں سوویت یونین کے فوجی دستوں کے خلاف مزاحمت میں شامل رہا تھا۔

Flash-Galerie Bin Laden Verfolgung Verfolgungsjagd Versteck USA

اسامہ بن لادن دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں ہلاک ہوئے

احمد عبد الفتح نے صنعاء میں روئٹرز کو بتایا کہ اس کی طرف سے اپنی بیٹی کا ہاتھ بن لادن کے ہاتھ میں دینے کے فیصلے سے پہلے بن لادن کی طرف سے اس رشتے کے لیے کئی مرتبہ درخواست کی گئی تھی۔ امل احمد عبدالفتح کے سترہ بچوں میں سے ایک ہے اور جب اس کے والد نے امل کی شادی بن لادن کے ساتھ کرنے کے لیے اسے افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا تو تب امل کی عمر صرف اٹھارہ برس تھی اور بن لادن کی عمر چالیس اور پینتالیس سال کے درمیان تھی۔

Mohammed Bin Laden

اسامہ بن لادن کے اس سسر کے بقول اس کی بیٹی صرف بن لادن کی ایک بیوی تھی اور اس کا القاعدہ اور اس کے ارکان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔’’ہم نہ ہی بن لادن کے اقدامات کے حق میں ہیں اور نہ ہی القاعدہ کی حمایت کرتے ہیں۔ ‘‘ عبدالفتح نے یہ بھی کہا کہ بن لادن نے اس کی بیٹی سے شادی کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کی تھی۔

یمن پیدائشی طور پر سعودی عرب کی شہریت رکھنے والے بن لادن کا آبائی وطن تھا جہاں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی ایک مقامی شاخ آج بھی فعال ہے۔ القاعدہ کی اس ذیلی تنظیم نے یہ اعتراف بھی کر رکھا ہے کہ سن 2009 میں امریکہ جانے والے ایک ہوائی جہاز کو دھماکے سے اڑانے کی ناکام کوشش بھی اسی تنظیم نے کی تھی۔ القاعدہ کی یمن میں اس شاخ پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ سن 2010 میں امریکہ جانے والی ایک پرواز میں دیگر سامان کے ساتھ خفیہ طور پر چار بم بھیجنے کا کام بھی اسی گروپ نے کیا تھا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس