1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شربت گلا کو رہا کیا جائے، افغان سفیر

بدھ کے روز خصوصی عدالت نے افغان خاتون شربت گلا کی ضمانت پر رہا کیے جانے کی ان کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ شربت گلا 26 اکتوبر سے ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں۔

شربت گلا کو پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ رکھنے کے جرم میں پشاور میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ضمانت سے متعلق سماعت کے دوران شربت گلا کے وکیل کا کہنا تھا کہ شربت گلا اپنے گھر کی واحد کفیل ہے اور اسے ہیپیٹائٹس کی بیماری بھی لاحق ہے۔

  پاکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زخیل وال نے عدالت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے فیس بک پیج پر جاری بیان میں لکھا گیا ہے، ’’دنیا بھر میں پہچانے جانے والی شربت گلا کی حراست پر افغان عوام کو بہت دکھ پہنچا ہے اور اس سے پاکستان اور افغانستان کے دو طرفہ تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس کیس کا نوٹس لیتے ہوئے شربت گلا کی جلد از جلد رہائی کا حکم دیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا، ’’ اگر پاکستان کی حکومت گلا کو رہا کرنا چاہتی جیسے کہ وزیر داخلہ نے کہا ہے تو پھر وہ شربت گلا کو یوں عدالتوں کے چکر نہ لگواتی۔‘‘

افغان سفیر کے مطابق شربت گلا پر ایک وفاقی ایجنسی کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور حکومت کہ پاس ان الزامات کو واپس لینے کا اختیار ہے۔ ڈاکٹر عمر زخیل وال نے کہا کہ افغان حکومت باعزت طور پر شربت گلا کو واپس افغانستان بھجوانے پر تیار ہے۔

شربت گلا کو سن 1984 میں دنیا بھر میں اس وقت شہرت حاصل ہوئی تھی جب فوٹوگرافر سٹیو مک کری کی کھینچی گئی ان کی تصویر کو ’نیشنل جیوگرافک‘ نامی جریدے میں شائع کیا گیا تھا۔