1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شربت گلا پاکستان سے ڈی پورٹ کر دی گئیں

پاکستانی حکام کے مطابق سن انیس سو پچاسی میں نیشنل جیو گرافک میگزین کے سر ورق کی زینت بننے والی معروف افغان مہاجر خاتون شربت گلا کو اُن کے چار بچوں سمیت پاکستان بدر کر دیا گیا ہے۔

Afghanistan Sharbat Gula auf dem Bild von Steve McCurry (picture-alliance/dpa/Steve McCurry/National Geographic Society)

شربت گلا کوگزشتہ ماہ  پشاور سے جعلی دستاویزات رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا

پاک افغانستان بارڈر پر تعینات مقامی سرحدی اہلکار منظور شاہ نے بتایا ہے کہ شربت گلا کو آج بروز بدھ نو اکتوبر کو طلوعِ صبح سے پہلے طورخم بارڈر کراسنگ پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق پولیس اہلکار طاہر خان کا کہنا تھا کہ شربت گلا کوگزشتہ ماہ  پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور سے جعلی دستاویزات رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

 شربت گلا جعلی شناختی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی شہریت حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ پاکستان میں جعل سازی کے معاملات دیکھنے والے ادارے کے ایک عہدیدار امتیاز احمد نے بتایا کہ گزشتہ جمعے کو ایک خصوصی عدالت نے شربت گلا کو پندرہ دن قید اور جرمانے کی علامتی سزا سناتے ہوئے اُن کی رہائی کی راہ ہموار کر دی تھی۔

 شربت گلا سن 1979 ميں افغانستان پر سابق سوويت يونين کی مداخلت  کے وقت سے پاکستان ميں پناہ لیے ہوئے تھیں۔ دسمبر 1984ء ميں اسٹيوو مک کری نامی فوٹوگرافر نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر قائم ايک مہاجر کيمپ ميں اس وقت کی بارہ سالہ شربت بی بی کی ايک تصوير کھينچی، جو عالمی شہرت يافتہ جريدے نيشنل جيوگرافک کے کور پر جون سن 1985 ميں چھپی۔ يہ تصوير مہاجرين کی حالت زار کی علامت بن کر ابھری اور يوں شربت بی بی انجانے ميں عالمی شہرت کی حامل بن گئيں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس حکومت پاکستان نے جعلی دستاويزات رکھنے والے افغان مہاجرين کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستان کی جانب سے يہ اعلان کيا جا چکا ہے کہ ملک ميں کئی دہائيوں سے پناہ ليے ہوئے قريب ڈھائی ملين افغان پناہ گزينوں کو واپس ان کے آبائی ملک روانہ کرنے کا وقت آ گيا ہے۔ اسلام آباد حکومت کے مطابق افغان مہاجرين پہلے سے بد حال ملکی معيشت پر سالہا سال سے بوجھ بنے ہوئے ہيں۔

DW.COM