1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شربت بی بی: افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستانی پالیسی پر تنقید

گزشتہ روز ایف آئی اے نے افغان خاتون شربت گلا کوغیر قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان میں رہائش اختیار کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔ کئی افراد افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستانی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اپنی سبز آنکھوں سے شہرت پانے والی یہ افغان خاتون اس وقت بہت مشہور ہو گئی تھیں جب سن 1985 میں نامور جریدے ’نیشنل جیوگرافک‘ نے ان کی تصویر شائع کی تھی۔ اُس وقت شر بت گلا بارہ سال کی تھیں۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق شربت گلا کو پشاور میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

شربت گلا کو ایک ایسے وقت میں گرفتار کیا گیا ہے جب پاکستانی حکومت ملک میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ  شربت گلا نے سن 1988 میں غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیا تھا۔ اس کے علاوہ افغان پاسپورٹ رکھتے ہوئے گلا نے سن 2014 میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کیا تاکہ وہ سعودی عرب حج کرنے جا سکے۔

شربت گلا کی حراست پر کئی افراد پاکستانی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ٹوئیٹر کے سرگرم صارف عمر قریشی نے اس حوالے سے ٹوئیٹ میں لکھا، ''بجائے شربت گلا کو گرفتار کرنے کے، حکومت کو اسے فوری شناختی کارڈ جاری کرنا چاہیے، ساری دنیا اس کو جانتی ہے اور ہم اسے جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔‘‘

کالم نگار بینا شاہ نے ٹوئیٹ میں لکھا، ’’شربت گلا کے ساتھ وہی ہوا جو ایسی مہاجرین خواتین کے ساتھ ہوا جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتیں اور بغیر پڑھے دستاویزات پر دستخط کر دیتی ہیں۔‘‘

سید صلاح الدین نے لکھا، ’’پاکستان نے دنیا بھر میں پہچانی جانے والی خاتون شربت گلا کو تو گرفتار کر لیا ہے لیکن یہاں عسکریت پسند گروپوں کے رہنماؤں کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔‘‘

احمد شجاع نے لکھا، ’’شربت گلا کی حراست پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو حراساں کیے جانے کی ایک مثال ہے اور اس رویے کے باعث افغان مہاجرین واپس افغانستان جانے پر مجبور ہیں۔‘‘

یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں بہت سے افراد پاکستانی انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں وہیں پاکستانی معاشرے کا ایک طبقہ افغان مہاجرین کو واپس افغانستان میں دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے قیام میں مارچ دوہزار سترہ تک توسیع کر دی ہے تاہم پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جانا چاہیے۔

ملتے جلتے مندرجات