1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شراب کے خلاف انوکھا مظاہرہ

بھارت میں شراب کے استعمال کے خلاف آج ہونے والے ایک مظاہرے میں شریک افراد ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر انسانی زنجیر بنا رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق یہ دنیا کی طویل ترین انسانی زنجیر ہو گی۔

اس مظاہرے کا اہتمام کرنے والی بِہار کی ریاستی حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ متوقع طور پر 20 ملین یعنی دو کروڑ افراد اس میں شریک ہوں گے اور یہ آج ہفتہ 21 جنوری کی سہ پہر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر پوری ریاست میں 3,007 کلومیٹر طویل انسانی زنجیر بنائیں گے۔

بِہار کی ریاستی حکومت کے ترجمان ونود آنند جھا نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں بتایا، ’’لوگ جن میں کسان، مزدور، خواتین اور بچے شامل ہیں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اس ریاست میں شراب کے استعمال پر پابندی کے حق میں یہ مظاہرہ کریں گے۔۔۔ یہ دنیا کی طویل ترین انسانی زنجیر ہو گی اور یہ کوشش رضاکارانہ ہے۔‘‘

جھا کے مطابق انسانی زنجیر بنانے کے ’’ذیلی راستے‘‘ بھی ہوں گے۔ طویل ترین راستہ یا زنجیر 3,007 کلومیٹر طویل ہو گی جبکہ دیگر ذیلی راستوں کی کُل لمبائی 8,285 کلومیٹر ہو گی۔ اس طرح انسانی زنجیر کی مجموعی لمبائی 11,292 کلومیٹر ہو گی تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ مختلف انسانی زنجیریں آپس میں جڑیں بھی۔

گِنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا کی طویل ترین زنجیر 2004ء میں بنگلہ دیش میں بنائی گئی تھی جب 50 لاکھ سیاسی کارکنوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر 1,050 کلومیٹر طویل یہ زنجیر بنائی تھی۔

بھارتی ریاست بِہار کے حکام کے مطابق انہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈز  سے درخواست کی ہے کہ وہ آج ہفتے کے روز بنائی جانے والی انسانی زنجیر کا جائزہ لے تاہم انہوں نے اس بعض تیکنیکی وجوہات کی وجہ سے اپنے مبصرین نہیں بھیجے۔ جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس کی طرف سے اس حوالے سے گنیز ورلڈ ریکارڈز کو بھیجی جانے والی ای میلز کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Symbolbild Alkohol Indien trinken (AP)

بھارتی ریاست بہار میں شراب کی فروخت پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے

بھارتی ریاست بہار میں شراب کی فروخت پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ تین دیگر ریاستوں گجرات، ناگالینڈ اور منی پور میں بھی شراب کی فروخت کے خلاف پابندی تو عائد ہے تاہم وہاں اس پابندی پر عملدرآمد کے لیے سختی نہیں کی جاتی۔