1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شدید گرمی اور بھارت کے مزدور بچے

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں واقع ایکسپریس ہائی وے پر بہت سے بچے مکئی کے دانے بیچتے ہوئے ملتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر قانونی طور پر ملازمت کی عمر کی حد سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔

Indien Kinderarbeit (imago/Eastnews)

بھارت میں سن 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق ملک میں 8.3 ملین بچے مزدور تھے

بارہ سالہ پرکاش بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اپنے کام میں مگن پرکاش کو نہ بھنکتی مکھیوں کی پرواہ ہے اور نہ ہی 40 ڈگری درجہ حرارت کی۔ اپنی ہی طرح کے قریب پندرہ بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُس کا کہنا تھا، ’’ ہم ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور ایک ساتھ ہی رہتے بھی ہیں۔‘‘

 ان میں سے ہر ایک بچے کو اُبلے ہوئے مکئی کے بُھٹوں کی ایک بوری دے کر ایکسپریس ہائی وے پر بھيجا جاتا ہے۔ سارا دن یہ بچے شاہراہ سے گزرنے والی گاڑیوں کو روک کر مکئی بیچنے کی کوشش کرتے ہیں اور قریب بارہ گھنٹے بعد اپنی بوری خالی کر کے ہی واپس لوٹتے ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب بچے عمر کے لحاظ سے قانونی طور پر کام کرنے کے مجاز ہیں؟ اس بارے میں یقین سے کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ زیادہ تر بچے اپنی عمر بتانے کے معاملے میں بہت محتاط ہیں اور اپنی عمر چودہ سال سے اوپر بتاتے ہیں جو بھارت میں پرائیوٹ کام کرنے والوں کے لیے قانونی عمر ہے۔

ذرا بڑی عمر کے لڑکے جن کو مکئی بیچنے والے یہ بچے اپنے بڑے بھائی بتاتے ہیں، موٹر سائیکلوں پر ہائی وے کے چکر  یہ دیکھنے کے لیے لگاتے رہتے ہیں کہ کام  ٹھیک چل رہا ہے یا نہیں۔ یہ نوجوان لڑکے بھٹے فروخت کرنے والوں کو صحافیوں سے بات چیت کرنے سے بھی منع کرتے ہیں۔

اس تمام مشقت کے بعد اس ملازمت سے انہیں محض 80 ڈالر ماہانہ ہی مل پاتے ہیں۔ یہ تمام بچے دور دراز کے دیہاتوں سے کام کی تلاش میں نئی دہلی کے مضافات میں واقع شہر نوئیڈا منتقل ہو گئے ہیں۔

 آج  بارہ جولائی کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر عالمی لیبر آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں قریب 168 ملین بچے مزدوری کرتے ہیں۔ بھارت میں سن 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق ملک میں 8.3 ملین بچے مزدور تھے۔

 بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے یونیسف کے مطابق بھارت میں مجموعی طور پر مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم شہری علاقوں میں اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

DW.COM