1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شدید سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ

پاکستان میں وسیع تر مادی تباہی اور نقصانات کا سبب بننے والے سیلاب نے کروڑوں شہریوں کو متاثر کیا اور کئی ملین بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔ زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کی مالیت بھی اربوں میں بنتی ہے۔

default

ماہرین موسمیات اس آفت کو موسمی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔آبادی میں تیز رفتار اضافہ، شہری آبادیوں کا بے ہنگم پھیلاو، کارخانوں اور گاڑیوں سے زہریلے دھوئیں کا اخراج، جس میں سبز مکانی گیسیں بھی شامل ہیں، اور جنگلات کی تباہی وہ بڑے عوامل ہیں، جن کا ماہرین تباہ کن موسمیاتی تبدیلیوں کے اسباب کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔

محکمہء موسمیات کے چیف میٹیورولوجسٹ ڈاکٹر غلام رسول نے کراچی میں ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ سبز مکانی گیسیں ایک مرتبہ فضا میں پہنچ جائیں تو ان کا ’لائف ٹائم‘ کئی سال پر محیط ہوتا ہے اور ان گیسوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافے کے امکانات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ’’یہ گیسیں فضا کو مستقل گرم کرتی جاتی ہیں۔ اگر زمین سے ان کا اخراج روک بھی دیا جائے تو جو گیسیں پہلے سے فضا میں داخل ہو چکی ہوتی ہیں، وہ اپنے کیمیائی عمل جاری رکھتی ہیں، اور یہی حقائق موسمیاتی تبدیلیوں کی راہ ہموار کرتی ہیں۔‘‘

Pakistan Flut Katastrophe 2010

سبز مکانی گیسیں ایک مرتبہ فضا میں پہنچ جائیں تو ان کا ’لائف ٹائم‘ کئی سال پر محیط ہوتا ہے

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے زمین کی آب و ہوا کو اب تک اتنا نقصان پہنچ چکا ہے کہ اب عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم تو کیا جا سکتا ہےمگر ختم نہیں۔

ڈاکٹرغلام رسول کہتے ہیں: ’’ان اثرات میں کمی کے لئے ہمیں ماحولیاتی عوامل اور شرائط کو بہتر بنانا ہو گا۔ آبادی میں تیز رفتار اضافے پر قابو پانا ہو گا، شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ کا سدباب کرنا ہو گا اور مؤثر شہری منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔‘‘

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

موسمیاتی اثرات میں کمی کے لیے ماحولیاتی عوامل اور شرائط کو بہتر بنانا ہو گا

پاکستان میں محکمہء موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب کے بارے میں حکومت کو آگاہ کر دیا گیا تھا مگر ’’شاید حکومت نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔‘‘ دوسری طرف وفاقی حکومت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ کام صوبائی حکومتوں کا تھا، جنہیں چار روز تک مسلسل وارننگ ملتی رہی۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زماں کائرہ کا کہنا ہے کہ یہ بات ’’صوبائی حکومتوں سے پوچھیں کہ Met آفس والے چار دن تک وارننگ دیتے رہے اور پھر بھی اتنا بڑا سیلاب آ گیا۔ صوبائی حکومتوں نے اپنی جتنی بھی کوششیں کی، اگر وہ اور بھی زیادہ کوششیں کرتے تو شاید کوئی زیادہ فرق نہ پڑتا۔‘‘

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہی ہوتا آیا ہے کہ حکومت کسی بڑے مسئلے کو اس وقت تک سنجیدگی سے نہیں لیتی جب تک کہ وہ مسئلہ کسی بڑے سانحے کا سبب نہ بنے۔

کئی موسمیاتی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں اور بھی قدرتی آفات دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔ لیکن ان کے قبل از وقت تدارک اور ممکنہ اثرات اور نقصانات کو کم سے کم رکھنے کے لئے حکومت کیا تیاریاں کر رہی ہے، یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت :عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس