1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شدت پسندوں کا ڈیٹا تیار کیا جانا چاہیے، جرمن سیاستدان

جی ٹوئنٹی اجلاس کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کے تناظر میں برلن حکومت سے نئے اقدامات کے مطالبے سامنے آئے ہیں۔ یونین اور سوشل ڈیموکریٹ سیاستدانوں نے یورپی سطح پر تشدد پر آمادہ افراد کے کوائف جمع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جرمن پارلیمان میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے پارلیمانی دھڑے کی سربراہ ایفا ہؤگل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر اس طرح کا کوئی ڈیٹا ترتیب دیا جائے تو مختلف محکموں کے لیے تشدد پر آمادہ لوگوں پر نظر رکھنے میں آسانی ہو گی۔

اسی طرح کرسچئن سوشل یونین سے تعلق رکھنے اسٹیفن مائر کے مطابق یورپی سطح پر بائیں بازو کے شدت پسندوں کے کوائف کو محفوظ کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہو گا۔ ان کے بقول ایسے کسی بھی اقدام کی بھرپور تائید کی جانے چاہیے۔

 

 

 

 

 

 

جی ٹوئنٹی مخالف مظاہروں سے ہیمبرگ کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا؟

اس موقع مائر نے اس تناظر میں قائم کیے جانے والے غیر جانبدار مراکز کو فوری طور پر بند کرنے اور جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کی وجہ سے بارہ جون سے جرمن سرحدوں پر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ منصوبے کے مطابق سرحدی چیکنگ کل منگل تک کے لیے نافذ کی گئی ہے۔

اسی طرح دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے سربراہ کرسٹیان لنڈنر نے کہا کہ غلط روادری کی اس سیاست کو ختم ہو جانا چاہیے، ’’ بائیں بازو کی شدت پسندی کو ایک طویل عرصے تک نظر انداز کیا گیا ہے۔‘‘

 

 

 ایک اخباری رپورٹ رپورٹ کے مطابق ہفتے کے دن یعنی جی ٹوئنٹی کے دوسرے اور آخری روز تک سرحدوں کی نگرانی پر مامور پولیس نے ایسے 673 کھلے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیا، جو اس سربراہ اجلاس کے حوالے سے جاری نہیں کیے گئے تھے۔

 

DW.COM