1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شجاع خانزادہ قتل کیس، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم

پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ اور دیگر سولہ افراد کی دہشت گردانہ حملے میں ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس حملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنا دی گئی ہے۔

یہ مقدمہ رانگو پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او کی مدعیت میں راولپنڈی کے محکمہ انسداد دہشت گردی میں درج کیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی، قتل اور دھماکا خیز مواد رکھنے کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ شجاع خانزادہ پر اتوار کے روز اس وقت خودکش حملہ کیا گیا تھا، جب وہ ضلع اٹک میں اپنے آبائی گاؤں شادی خان میں اپنے ڈیرے پر ایک عزیز کی وفات کے سلسلے میں تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے۔

شجاع خانزادہ کی ہلاکت پر آج پیر کو پنجاب میں تین روزہ جب کہ خیبر پختوانخوا اور بلوچستان میں ایک روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔ مقامی زرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعلی شہباز شریف کو دہشت گردی کے اس واقعے سے متعلق بھجوائی گئی ابتدائی رپورٹ میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے گئے قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد کے لیے فعال صوبائی وزیر کی دہشت گردانہ حملے میں ہلاکت اس حقیقت کی جانب ایک اشارہ ہے کہ دہشت گرد اب بھی اپنے اہداف کو چن کر نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس سڈیز کے سربراہ عامر رانا کا کہنا ہے، ’’یہ بات درست ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی وجہ سے دہشت گردوں کے ردعمل کے وقت میں کمی آئی ہے اور گزشتہ چند مہینوں میں بہت سے دہشت گرد مارے گئے اور گرفتار بھی کیے گئے لیکن سمھجنے کی بات یہ ہے کہ خطرہ اب بھی موجود ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کو دہشت گردوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر سوچنا ہو گا۔

خیال رہے کہ شجاع خانزادہ اور دیگر اٹھارہ افراد کی ہلاکت کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ دہشت گردوں نے اس بار ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی جس کے تحت اس عمارت کی چھت کو گرا دیا گیا، جہاں پر صوبائی وزیر اپنے علاقے کے دیگر افراد کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔

بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرگرم صوبائی وزیر داخلہ کی سیکیورٹی پر خاطر خواہ توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ شجاع خانزادہ کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر حملے کے وقت بھی دہش گردوں سے نمٹنے کے لیے پولیس کے تربیت یافتہ کمانڈوز ان کے ساتھ ڈیوٹی پر نہیں تھے۔

اس ضمن میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے اہلکاروں نے پیر کو وزیر داخلہ کی ذاتی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد سے اس واقعہ سے متعلق معلومات بھی حاصل کیں۔ تاہم پاکستانی معاشرے میں اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے، جس کی نشاندہی خود بھی دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے ملک کے معروف صحافی حامد میر کرتےہیں۔

Pakistani TV Journalist Hamid Mir

حامد میر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد میڈیا کو بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ایک مرتبہ کرنل شجاع نے ان کی لاہور آمد پر فون کر کہ کہا کہ آپ کی (حامد میر) سکیورٹی مناسب نہیں۔ آپ کی جان کو خطرہ ہے، خیال رکھا کریں۔ حامد میر کے مطابق اس پر انہوں نے کرنل شجاع سے پوچھا کہ آپ خود بھی تو زیادہ سکیورٹی نہیں رکھتے، جس پر صوبائی وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ اگر میں نے سکیورٹی کے لیے ایک سے زائد گاڑی رکھی تو سب سے پہلے آپ میڈیا والے میرے خلاف وی آئی پی پروٹو کول لینے کی خبریں لگائیں گے۔‘‘

حامد میر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد میڈیا کو بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے، ’’ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کون سی ایسی شخصیات یا لوگ ہیں، جن کی زندگیوں کو بے حد خطرہ ہے اور اگر وہ اپنے ہمراہ سکیورٹی سکواڈ لے کر چلتے ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘‘