’شاید قائم علی شاہ اسپرے سے جاگ جائیں‘ | معاشرہ | DW | 06.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’شاید قائم علی شاہ اسپرے سے جاگ جائیں‘

کراچی میں نوجوانوں کا ایک گروپ شہری مسائل کی جانب توجہ دلانے کے لیے سڑک پر اسپرے پینٹ سے وزیراعلی کی تصویر بنا کر ’سلیپنگ بیوٹی‘ لکھ دیتا ہے۔ کیا اس سے شہری مسائل حل ہو جائیں گے؟

Pakistan Gruppe von jungen Menschen in Karachi

نوجوانوں کا گروہ روز رات کو سڑک کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور ڈھکن کے بغیر گٹروں کے اطراف وزیر اعلٰی سندھ کی تصاویر بناتے ہیں

کراچی میں روز مرہ بڑھتے عوامی مسائل اور حکام کی عدم توجہ کے خلاف نوجوانوں کے ایک گروپ نے احتجاج کے لیے انوکھا انداز اختیار کیا ہے، پلیز ویک اپ کے نام سے شروع کی جانے اس مہم میں نوجوانوں کا گروہ روز رات کو سڑک کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور ڈھکن کے بغیر گٹروں کے اطراف وزیر اعلٰی سندھ کی تصاویر بناتے ہیں۔ نوجوانوں کا یہ گروہ قائم علی شاہ کو پیپلز ویک اپ سلیپنگ بیوٹی کی چاکنگ کرتا ہے۔

نوجوانوں کے احتجاجی گروہ کی سربراہی تحریک انصاف سے متاثر انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے رہنما عالمگیر خان محسود کررہے ہیں، ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں عالمگیر نے مہم کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کے ایک عام شہری ہیں اور وہ عام آدمی کو روز مرہ زندگی میں درپیش مسائل کو اجاگر کرنا چاھتے ہیں۔ ’’عام آدمی صبح دفتر جاتا ہے تو اسے ٹوٹی پھوٹی بسوں میں دھکے کھانا پڑتے ہیں۔ پولیس عوام کی خادم ہونے کی بجائے حاکم بن بیٹھی ہے۔ موبائل چھن جائے تو رپورٹ درج نہیں ہوتی، سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار روز بہ روز گر رہا ہے، عام آدمی کو اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولت حاصل نہیں، گٹر پر وزیر اعلٰی کی تصاویر بنانا سمبالگ تھا مگر مہم گٹر اسپیسیفک نہیں ہے، کیونکہ تمام تر اختیارات وزیر اعلٰی کے پاس ہیں۔ انہوں نے گذشتہ پانچ سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر 7 ارب روپے خرچ کیے ہیں، مہم کا مرکزی خیال میرا تھا لیکن اب بہت سے نوجوان ہمارے ساتھ ہیں، اور میں اس مہم کے نتیجے میں ہر طرح کے ردعمل کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں۔

عالمیگر خان کی جانب سے شروع کی گئی مہم نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی ہے اور شہری نہ صرف اس مہم کو سراہ رہے ہیں بلکہ حکومت پر بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے دباو بڑھ رہا ہے۔ اسی لیے وزیر اعلٰی سندھ نے مہم کا نوٹس لیتے ہوئے کھلے گٹر کے ڈھکن فوری طور پر لگانے کا حکم دیا ہے۔ مگریہ بات اور ہے کہ وزیر اعلٰی سندھ کے دیگر احکامات کی طرح اس کو بھی حکومتی عمل داروں نے اپنے تک سنجیدگی سے نہیں لیا۔

تحریک انصاف کراچی کے ترجمان جمال صدیقی نے پارٹی کو عالمگیر خان کی مہم سے الگ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قانون میں ہر فرد کو ناانصافی کے خلاف پرامن احتجاج کا حق دیا گیا ہے اور عالمگیر خان نے اپنا حق استعمال کرکے کوئی جرم نہیں کیا مگر ان کا یہ عمل مکمل طور پر انفرادی ہے۔

کچھ حلقوں میں مہم کو لے کر کراچی اور لاہور میں عوامی مسائل پر حکومتی توجہ اور دونوں شہروں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تقابلی جائزہ بھی لینا شروع کر دیا ہے۔ معروف نیوز اینکر رکن رضوی اور صحافی صفدر عباس کہتے ہیں کہ کراچی کی سڑکوں کی جو حالت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں، پینے کا پانی بھی سب کو میسر نہیں۔ ’’دنیا میں کراچی شاید واحد شہر ہوگا جہاں پبلک ٹرانسپورٹ ہی نہیں۔ 1970 کی بسیں ابھی تک چل رہی ہیں۔ دوسری طرف لاہور کو دیکھیں کشادہ سڑکوں کی تعمیر، میٹرو بس، جدید فلائی اوورز اور انڈر پاسز، جو کمپنی سٹی نام نعمت اللہ خان کے دور میں کچرا اٹھانے کا ٹھیکا لینے کراچی آئی تھی اب وہ لاہور میں کام کررہی ہے، اور یہاں سڑکوں پر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہیں۔‘‘

ماہرنفسیات ڈاکٹر اقبال آفریدی کہتے ہیں حکام اور اداروں کی نااہلی نے شہریوں میں فرسٹریشن کو جنم دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کا فرد کہیں نہ کہیں انتہاپسندی کا شکار نظر آرہا ہے۔ ’’جب شہری لوٹ مار کرنے والے ڈاکووں کو پکڑ لیتے ہیں تو آگ لگا دیتے ہیں، موٹر سائیکل اور بڑی گاڑی کے درمیان حادثے میں غلطی گاڑی والے کی ہو نہ ہو توڑ پھوڑ اور آتش زدگی گاڑی کا ہی مقدر ٹھرتی ہے۔ اس مہم سے بھی نوجوانوں کے اندر حکومت کے لیے موجود نفرت کا اظہار ہے مگر نوجوانوں نے اپنے غصہ کے اظہار لیے پرتشدد کی بجائے تخلیقی طریقہ کار اپنایا ہے۔