1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شاہ عبد اللہ نے کوڑوں کی سزا معاف کر دی

سعودی فرماں رواں شاہ عبد اللہ نے ایک ایسی خاتون کو دس کوڑے لگانے کی سزا معاف کر دی ہے، جو ملک میں خواتین کے گاڑی چلانے پر عائد پابندی کے باوجود گاڑی چلانے کی مرتکب پائی گئی تھیں۔

default

سعودی شہزادے الولید بن طلال کی اہلیہ شہزادی امیرة الطویل نے جدہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا اعلان کیا۔ ان کے الفاظ تھے، ’’خدا کا شکر ہے، ہمارے پیارے بادشاہ کی مہربانی سے شائیمہ کو کوڑے لگانے کی سزا منسوخ ہوگئی۔ مجھے یقین ہے کہ تمام سعودی خواتین میری طرح خوش ہوں گی۔‘‘

 اپنے خطاب میں انہوں نے معاشرے میں اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، ’’برے وقت میں ہم ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اچھے وقتوں میں ایک ساتھ جشن مناتے ہیں۔‘‘

سعودی سلطنت میں خواتین کا گاڑی چلانا قانونی طور پر جرم ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک سعودی عدالت نے شائیمہ نامی خاتون کو ڈرائیونگ کرنے کے ’جرم‘ میں دس کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔ وہ جولائی میں گاڑی چلاتے ہوئے پائی گئی تھیں۔ سعودی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب چند روز قبل ہی شاہ عبداللہ نے پہلی بار مقامی انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔

NO FLASH Saudi-Arabien Frau im Auto

سعودی عرب میں گزشتہ کچھ دنوں سے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کی سرگرمیاں بڑھی ہیں

 

عرب دنیا میں سر اٹھانے والے جمہوری انقلابات کے بہت زیادہ واضح آثار سعودی عرب میں نظر نہیں آرہے مگر یہاں بھی مزید شخصی آزادی کی دبی دبی آوازیں طویل عرصے سے سنائی دے رہی ہیں۔ سعودی شہزادی نے اپنے خطاب میں کہا، ’’مجھے سعودی عورت ہونے پر فخر ہے، تمام سرگرم سعودی خواتین کا شکریہ۔‘‘

خاتون کو کوڑوں کی سزا دینے کے معاملے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق کوڑے مارنا ایک ظالمانہ سزا ہے اور یہ شاہ عبد اللہ کی جانب سے ملک میں اصلاحات کے نفاذ کے وعدوں کی نفی کرتی ہے۔

شہزادی امیرة کا شمار بھی ان سعودی خواتین میں ہوتا ہے، جو ملک میں خواتین کے گاڑی چلانے پر عائد پابندی سے خوش نہیں۔ ۲۰۰۹ء میں ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پابندی سے تنگ آچکی ہیں۔ شہزادی امیرة کے شوہر شہزادہ الولید شاہ عبد اللہ کے بھانجے ہیں اور وہ ملک میں خواتین کی مزید سماجی آزادی کے لیے خاصے سرگرم رہتے ہیں۔

رپورٹ:  شادی خان سیف

ادارت:  امتیاز احمد

DW.COM