1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شاہ سلمان ایشیا کا ایک ماہ کا دورہ اتوار سے شروع کریں گے

سعودی عرب کے شاہ سلمان اِس دورے کے دوران ایشیائی ملکوں کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری کے روابط مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ انسداد دہشت گردی کے لیے دو طرفہ تعاون پر بھی بات چیت کریں گے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان کل اتوار چھبیس فروری سے براعظم ایشیا کے مختلف ملکوں کے ایک ماہ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ سعودی حکومت نے اپنے بادشاہ کے اس طویل دورے کی تفصیلات ابھی تک عام نہیں کی ہیں۔ اس طویل دورے کے دوران سعودی شاہ ملائیشیا، انڈونیشیا، جاپان اور چین یقینی طور پر جائیں گے۔ سن 2014 میں امریکا کے دورے کے بعد یہ اُن کا مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ممالک سے باہر کا پہلا دورہ ہے۔

ریاض حکومت نے اس دورے کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں لیکن سعودی شاہ کے اس دورے کی پہلی منزل ملائیشیا بتائی گئی ہے۔ کوالالمپور میں ملائیشیا کے حکومتی اہلکاروں کے مطابق شاہ سلمان اپنے بیٹے شہزادہ محمد کے ہم راہ اتوار کو پہنچ رہے ہیں۔ آرامکو اور ملائیشیاکے تیل پیدا کرنے والے سرکاری ادارے پیٹروناس کے ساتھ ایک ڈیل کو اسی دورے کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔

Saudi Arabien König Salman Porträt Malerei Wand (Getty Images/F.Nureldine)

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ سلمان کا نصب شدہ پوسٹر

نیوز ایجنسی روئٹرز نے سعودی شاہ کے اِس طویل دورے کی مختلف منازل کی تفصیلات عام کی ہیں۔ روئٹرز کے مطابق اکیاسی برس کے شاہ سلمان پہلی مارچ سے لے کر نو مارچ تک انڈونیشیا کا دورہ کریں گے۔ اس نو روزہ دورے کے دوران وہ انڈونیشی دارالحکومت جکارتہ کے علاوہ سیاحتی مقام بالی بھی جائیں گے۔ انڈونیشیا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد شاہ سلمان چھ روزہ جاپانی دورہ بارہ مارچ سے شروع کریں گے۔

 سعودی بادشاہ اپنے اِس دورے کے دوران مختلف ملکوں کے رہنماؤں کے ساتھ دفاع، انسدادِ دہشت گردی اور اقتصادیات پر خاص طور پر گفتگو کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ مختلف ملکوں کے سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کی کوشش بھی کریں گے۔ وہ جاپان کے دورے پر نیو ٹیکنالوجی فنڈ کے لیے پینتالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کریں گے۔

 اِس دورے پر اُن کے ہم راہ ایک انتہائی بڑا وفد جا رہا ہے۔ وفد کے اراکین کی تعداد پندرہ سو کے قریب بتائی گئی ہے۔ اس میں دس وزراء بھی  شامل ہیں۔ وزیر توانائی خالد الفلیح کے علاوہ سعودی تیل پیدا کرنے والے ادارے آرامکو کے اعلیٰ افسران بھی اس دورے کا حصہ ہیں۔ سعودی عرب نے آرامکو کے پانچ فیصد حصص سن 2018 میں فروخت کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔