شاہد خاقان عباسی کا دورہ خیبر ایجنسی | حالات حاضرہ | DW | 25.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شاہد خاقان عباسی کا دورہ خیبر ایجنسی

شاہد ‌خاقان عباسی دہشت گردی سے متاثرہ خیبر ایجنسی کا دورہ کرنے والے پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر تحصیل جمرود میں تیسرے گورنر یوتھ سپورٹس اینڈ کلچر فیسٹیول کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

 وزیر اعظم شاہد ‌خاقان عباسی نے اپنے دورے کے دوران فاٹا یوتھ فیسٹول کے افتتاح کے موقع پر قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’فاٹا کے عوام نے پورے ملک کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے جان و مال کی جو قربانی دی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان قربانیوں کی بدولت آج ہم سب یہاں بیٹھ کر کھیلوں اور ثقافتی میلوں کا افتتاح کررہے ہیں۔ ہمیں ہر موقع پر فاٹا کے عوام، فوج، پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے۔‘‘

شاہد خاقان عباسی سے قبل ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور یوسف رضا گیلانی بھی قبائلی علاقوں کے دورے کر چکے ہیں۔ خیبر ایجنسی پاکستان اور افغانستان کے مابین بین الااقومی شاہراہ پر واقع ہے جو دونوں ممالک کے مابین سمیت وسط ایشا کے ساتھ تجارت کا اہم راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ تین دہائیوں تک دہشت گردی اور بدامنی کے شکار رہا ہے۔

 وزیر اعظم عباسی کا مزید کہنا تھا کہ انہی قربانیوں کی بدولت آج دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر فاٹا میں کھیلوں اور تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کا اعلان بھی کیا۔

فاٹا یوتھ فیسٹول میں سات قبائلی ایجنسیوں سمیت چھ سرحدی علاقوں (فرنیٹریئر ریجنز یعنی ایف آر) کے نوجوان بھی حصہ لے رہے ہیں۔ فاٹا کے ڈائریکٹریٹ آف سپورٹس کے مطابق اس فیسٹول میں تقریباً تین ہزار کھلاڑی اور آفیشلز شرکت کر رہے ہیں۔ یہ مقابلے چار روز تک جاری رہیں گے جس میں اِن اور آؤٹ ڈور گیمز بھی شامل ہیں۔ اس فیسٹول پر پینتیس ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔

ایل کیو ٹی: ’قبائلیوں کے لیے امید کی کرن‘

فاٹا ریفارمز میں نظر انداز کیے جانے پر خواتین کے تحفظات

فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کا مخالف کون؟

سپورٹس فیسٹول کے افتتاح کے موقع پر موجود سماجی کارکن حسین آفرید ی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر قبائلی یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وزیر اعظم انہیں فاٹا کے انضمام کے حوالے سے خوش خبری دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا کی اکثریت عوام چاہتی ہے کہ انہیں بھی انصاف تک رسائی حاصل ہو اور دیگر شہریوں کی طرح انہیں بھی صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں، ’’یہ سب  اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم اپنے نمائندوں کو پختونخوا اسمبلی میں بھیج سکیں تاکہ وہ ہمارے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا سکیں‘‘۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ جمرود کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ صبح سے جمرود کی جانب جانے والی شاہراہوں پر پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے دستے تعینات تھے۔ اس دوران گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اور وفاقی وزرا بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔ گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’قبائلی علاقوں کے عوام نے ایک طویل عرصے تک دہشت گردوں کو روکنے کے لیے قربانیاں دی ہیں اور انہی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم  یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں قبائلی علاقے انتہائی پرامن ہیں۔‘‘

فاٹا کی اکثریتی عوام ایک عرصے سے اس خطے کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور انہیں پاکستان کے دیگر شہریوں کے برابر حقوق دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ فاٹا میں برطانوی دور کے نافذ کردہ کردہ قوانین ایف سی آر کے نام سے رائج ہیں جس کے خاتمے کیلے فاٹا کے عوام ایک عرصے سے جدوجہد کررہے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:34

فاٹا کے اسکولوں کی دگرگوں صورتحال

DW.COM

Audios and videos on the topic