1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شاہد خاقان عباسی، پاکستان کے نئے وزیر اعظم

پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی ملک کے نئے وزیر اعظم منتخب کر لیے گئے ہیں۔ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والے خاقان عباسی ملک کے عبوری وزیر اعظم ہوں گے۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یا قومی اسمبلی کے آج یکم اگست کو ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں ملک کے نئے وزیر اعظم کا انتخاب مکمل ہو گیا۔ قومی اسمبلی میں کُل نشستوں کی تعداد 342 ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے نامزد کردہ امیدوار شاہد خاقان عباسی نے 221 ووٹ حاصل کر کے یہ کامیابی حاصل کی۔ انہیں کامیابی کے لیے 172 ارکان کی حمایت درکار تھی۔

وزیر اعظم کے عہدے کے لیے مجموعی طور پر چھ ارکان قومی اسمبلی نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سید خورشید شاہ اور سید نوید قمر، پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے شیخ رشید جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے صاحبزادہ طارق اللہ اس عہدے کے لیے امیدوار تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے کشور زہرہ اور شیخ صلاح الدین  کو امیدوار بنایا گیا تھا تاہم اس جماعت نے پاکستان مسلم لیگ نون کی حمایت میں اپنے امیدواروں کے نام واپس لے لیے تھے۔

Pakistan Islamabad - Shahid Khaqan Abbasi (Getty Images/AFP/A. Qureshi)

شاہد خاقان عباسی قبل ازیں وزیر پٹرولیم کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے

پاکستان کے 18 ویں وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کے نتائج کے مطابق منتخب ہونے والے شاہد خاقان عباسی نے 221 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے قریب ترین حریف پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سید نوید قمر رہے جنہوں نے 47 ووٹ حاصل کیے۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شیخ رشید نے 33 جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار صاحبزادہ طارق اللہ نے صرف چار ووٹ حاصل کیے۔

وزیر اعظم کا عہدہ پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ محمد نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہوا تھا۔ انہیں پاکستانی سپریم کورٹ نے جمعہ 28 جولائی کو پانامہ کیس میں نا اہل قرار دے دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق نئے منتخب ہونے والے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی عبوری طور پر یہ ذمہ داریاں نبھائیں گے جبکہ 45 دنوں کے اندر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی شہباز شریف قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر پارلیمان کی باقی ماندہ مدت کے لیے یہ ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

DW.COM