1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شاہجہانی مسجد کا حسن ماند کیوں پڑ گیا

ٹھٹھہ میں قائم تاریخی شاہجہانی مسجد کے حسن کو گزرتے وقت کی نظر تو لگی ہی، لیکن یہ حکمرانوں کی بے توجہی کا شکار بھی رہی ہے۔

روایتوں کے مطابق جب سن 1644میں ’جامع مسجد شاہ جہاں‘ کو مسمار کر دیا گیا تھا، تب مغل گورنر کے مشیروں نے اسے مشورہ دیا تھا کہ اس مسجد کی تعمیر نو کے لیے نئی بنیادیں ڈالنے کے لیے کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے، جس سے زندگی بھر کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔ چنانچہ ہر طرف یہ اعلان کرا دیا گیا کہ اس اہلیت کے حامل افراد رات کی تاریکی میں آئیں اور مسجد کی بنیاد میں ایک پتھر رکھ دیں۔

اس اعلان کے اگلی صبح ٹھٹھہ کے قصبے میں مسجد کی بنیادوں میں 450 اینٹیں رکھی ملیں۔ اس وقت کے مغل گورنر امیر خان کی نویں نسل کے چشم و چراغ سید مراد علی شاہ کے مطابق یوں اس مسجد کی تعمیر نو کا مرحلہ شروع ہوا۔ یہ مسجد تاج محل کی تعمیر کے لیے مشہور مغل بادشاہ شاہجہاں کے حکم سے تعمیر کرائی گئی تھی۔

صدیوں پرانی فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ تصور کی جانے والی اس مسجد کے باہر کھڑے سید مراد علی نے کہا، ’’پرانے اچھے وقتوں میں سینکڑوں نیک انسان اور صوفیا تھے لیکن آج ایک بھی ایسا نہیں جو اس تاریخی ورثے کی عظمت کو بچا سکے، جسے وقت کے ساتھ ساتھ انسانی غفلت اورلاپرواہی نے بھی گہن لگا دیا ہے۔‘‘

سن1647 میں ہزاروں مزدوروں کی مدد سے تعمیر نو کی جانے والی شاہجہانی مسجد، مغلیہ ثقافت کے مرکز لاہور سے باہر مغل طرز تعمیر کی ایک نایاب مثال ہے۔ ٹھٹھہ، صدیوں سے زیریں سندھ کا تاریخی دارالحکومت رہا ہے اور یہ مرکزی مسجد جمعے اور عیدین کے اجتماعات پر نمازیوں کے لیے مطلوبہ جگہ کی ضرورت کو پورا کرتی تھی۔

چھ ہزار تین سو اسکوائر فیٹ کے رقبے پر پھیلی شاہجہانی مسجد کی تعمیر اس اہتمام سے کی گئی تھی کہ امام مسجد کی آواز ایک گونج کے ساتھ ہی راہداریوں میں درجنوں گنبدوں کے ذریعے مسجد کے وسیع صحن کے ارد گرد ہر کونے تک پہنچ جاتی تھی۔ لیکن اٹھارویں صدی کے بعد جیسے جیسے ٹھٹھہ کی اہمیت کم ہوتی گئی، شاہجہانی مسجد کی بوسیدگی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔

ستر کی دہائی میں وفاقی حکومت کی جانب سے کرائے جانے والی ناقص تعمیر نو نے اس مسجد کے منفرد سمعی نظام سمیت اس کے اصل خدوخال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ گورنمنٹ کالج ٹھٹھہ کے پرنسپل محمد علی مانجی نے بتایا کہ دوران مرمت بہت سی چیزوں کو تبدیل کر دیا گیا اور اس کے نفیس کام کے ساتھ قدرتی گونج کا نظام بھی خراب ہو گیا۔

Pakistan Thatta Shah Jehan Moschee

یہ مسجد تاج محل کی تعمیر کے لیے مشہور مغل بادشاہ شاہجہاں کے حکم سے تعمیر کرائی گئی تھی

صوبہ سندھ کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر قاسم علی قاسم کا بھی یہی کہنا ہے کہ مرمت سے پیشتر کسی ماہر آثار قدیمہ سے مشورہ نہیں کیا گیا، جس سے مسجد کی بنیادی خوبصورتی بہت متاثر ہوئی۔ مسجد کی محرابی تعمیر والا داخلی دروازہ، جس پر آیات قرآنی نقش تھیں، مرمت کے دوران ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا جس کے بعد اسے کراچی میں قومی عجائب گھر میں رکھا گیا اور وہاں سے کباڑ کی نظر کر دیا گیا۔

آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر قاسم علی قاسم نے بتایا کہ مسجد کے تاریخی اور منفرد خدوخال کے باوجود اس کی عظمت جمال کو دھندلا ہونے سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات اٹھائے نہیں جا رہے۔