1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شاپنگ مالز میں حملے کی منصوبہ بندی، جرمنی میں دو مشتبہ بھائی گرفتار

جرمنی میں ایک بڑے شاپنگ سینٹر پر ’دہشت گردانہ حملے‘ کی منصوبہ بندی کے شبے میں دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ چند روز قبل برلن کی کرسمس مارکیٹ پر ٹرک حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔

برلن حملے کے بعد جرمنی بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ کوسووو سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کو، جن کی عمریں 28 اور 31 برس ہیں، ایک دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں مشتبہ ملزمان سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان کے ساتھ دیگر کون کون سے افراد شامل تھے۔

خفیہ اداروں کی جانب سے مہیا کی گئی معلومات پر پولیس نے مغربی جرمن شہر اوبرہاؤزن میں واقع ایک اہم شاپنگ مال اور کرسمس مارکیٹ کے آس پاس پولیس کا گشت بھی بڑھا دیا دیا ہے۔

پولیس کے مطابق سینٹر اور مال ان مشتبہ حملہ آوروں کا ہدف تھا۔ 250  دکانوں کا حامل یہ مال جرمنی کے سب سے بڑے شاپنگ سینٹرز میں سے ایک ہے اور کرسمس کے دنوں میں خریداروں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے۔

Fahndungsfoto Anis Amri mutmaßlicher Attentäter Berlin Weihnachtsmarkt (picture-alliance/Zumapress)

برلن حملے کے ملزم کی تلاش جاری ہے

یہ گرفتاریاں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں، جب کہ پولیس برلن حملے کے مشتبہ ملزم کی تلاش میں مصروف ہے۔ تیونس سے تعلق رکھنے والے ملزم انیس عامری نے مبینہ طور پر ایک ٹرک کے ذریعے برلن کی ایک کرسمس مارکیٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ پیر کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں 12 افراد ہلاک جب کہ قریب 48 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے قبول کی ہے اور جرمن سرزمین پر اس شدت پسند تنظیم کی جانب سے کیا جانے والا یہ سب سے خون ریز حملہ ہے۔

جمعرات کے روز پولیس کمانڈوز نے تین مقامات اور شہر سے شہر جانے والی بسوں کی تلاشی لی تاہم 24 سالہ عامری اب تک پولیس کو نہیں ملا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ برلن کرسمس مارکیٹ میں ہونے والے حملے میں عامری ہی ملوث تھا۔ اس ملزم کی شناختی دستاویزات کرسمس مارکیٹ میں موجود لوگوں کو روندنے والے ٹرک سے ملے تھیں۔ پولیس نے عامری کی گرفتاری کے لیے یورپی وارنٹ نکالے ہیں۔