1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شاویز کا سونے کی صنعت کو قومیانے کا ارادہ

وینزویلا کے صدر اوگو شاویز نے عندیہ دیا ہے ان کی حکومت زرمبادلہ کے ذخائر کی بہتری کے لیے ملک کے اندر سونا نکالنے اور اس کی پروسیسنگ کے عمل کو قومیانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

default

سوشلسٹ نظریات رکھنے والے شاویز نے کہا کہ کچھ دنوں کے اندر وہ اس ضمن میں ایک حکم نامہ جاری کریں گے۔ شاویز نے اس صنعت پر کنٹرول کے لیے فوج سے بھی مدد کی درخواست کی۔ سرکاری ٹیلی وژن کو دیے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’ میرے پاس ایسے قوانین ہیں کہ جو ریاست کو سونے کے ذخائر اور اس سے وابستہ دیگر سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہم سونے کی صنعت کو قومیا لیں گے اور ہم دیگر چیزوں کی طرح اسے بھی زرمبادلہ میں تبدیل کر دیں گے کیونکہ سونے کی قیمت بہت بڑھ رہی ہے۔‘‘

ان کے اس اعلان سے قبل حزب اختلاف کے ایک سیاستدان نے انکشاف کیا تھا کہ وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے بیرون ملک موجود سونے کے حکومتی ذخائر کا 90 فیصد واپس ملک میں لانے کی سفارش کی ہے۔

Hugo Chavez Venezuela Glatze Krebs Krebsbehandlung Caracas Flash-Galerie

وینزویلا کے صدر اوگو شاویز

صدر شاویز نے کہا کے ہم اس کوشش میں ہیں کی اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرسکیں۔ ان کے مطابق ونیزویلا کے پاس قریب 12 سے 13 بلین ڈالرز کے سونے کے ذخائر ہیں اور وہ اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ یہ ذخائر اس ملک سے لیئے جاتے رہیں۔

لاطینی امریکہ میں وینزویلا کا شمار سونے کے بہت زیادہ ذخائر رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا کے جنوب میں سالانہ بنیادوں پر قریب چار اعشاریہ تین ٹن سونا نکالا جاتا ہے۔ وینزویلا میں ملکی معیشت کا بڑا حصہ پہلے ہی سرکاری سرپرستی میں کام کر رہا ہے تاہم شاویز نے سونے کی کان کنی کرنے والوں کو 50 فیصد پیداوار برآمد کرنے کی اجازت دے دی تھی جبکہ نصف حصہ مرکزی بینک کو بیچنا ضروری تھا۔ اس سے پہلے ایسے اداروں کو 30 فیصد پیداوار برآمد کرنے کی اجازت تھی۔

وینزویلا میں سونا نکالنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو شکایت ہے کہ برآمد پر لگائی گئی حدود کی وجہ سے ان کا منافع گھٹ رہا ہے اور وہ نئے منصوبے شروع کر کے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM