1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شانگلہ میں فوجی قافلے پرحملہ

ضلع شانگلہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کاسرحدی ضلع ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ حملہ ضلعی ہیڈ کوارٹر الپوری کے مصروف ترین علاقے میں واقع سیکورٹی چیک پوسٹ پرکیاگیا۔

default

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ سرحد کے ضلع شانگلہ میں سیکورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے کے نتیجے میں سیکورٹی کے چھ اہلکاروں سمیت 41 افراد ہلاک جبکہ 50سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکہ میں پولیس کی چار گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ حملہ ضلعی ہیڈ کوارٹر الپوری کے مصروف ترین علاقے میں واقع سیکورٹی چیک پوسٹ پر کیاگیا۔ ضلع شانگلہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کاسرحدی ضلع ہے۔ اس کے بارے میں حکومت کا موقف رہاکہ شانگلہ کو عسکریت پسندوں سے صاف کردیا ہے مالاکنڈ ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ادریس خان کا کہناہے کہ ’’ حملے میں وہی لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جو اس ڈویژن میں قیام امن کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کہناہے کہ ابتدائی طورپر یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ خودکش حملہ ہے یا پہلے سےنصب شدہ بم۔ تاہم انہوں نے کہاکہ حملے میں ہلاک ہونیوالوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ‘‘ ضلع سوات اوربونیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں تیزی آنے کے بعد مبینہ طورپر زیادہ تر عسکریت پسند شانگلہ فرار ہوئے، جہاں سے وہ ہزارہ ڈویژن کے راستے دیگرعلاقوں میں کاروائیوں کیلئے سرگرم رہے ‘‘

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے شہر کے مصروف ترین بازار سے گذرنے والی سیکورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا میاں افتخارحسین کا کہنا ہے کہ ’’ مرنیوالوں میں چھ سیکورٹی اہلکاروں سمیت37شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے کامیاب کارروائی کرکے مالاکنڈ میں دہشت گردوں کی بیخ کنی کی ہے اور پوری قوم سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہے‘

انہوں نے وزیرستان میں فوری آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیرستان میں آپریشن کا اعلان تو کردیا گیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا جسکی وجہ سے دہشت گردوں نے اپنی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ تاہم انکا کہناتھاکہ دنیا بھر کے دہشت گرد یہاں جمع ہوئے ہیں گزشتہ تیس سالوں کے دوران انہیں یہاں قدم جمانے کا موقع دیاگیا لیکن اب موثر کارروائیوں کی وجہ سے یہ لوگ بھاگنے کے قریب ہے انکا کہنا تھاکہ دہشت گردوں کو کسی طورپر بھی زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے ‘‘

دوسری جانب قبائلی علاقوں باجوڑ ایجنسی اور وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے جیٹ طیاروں نے عسکریت پسندوں کے مبینہ طورپر بمباری کی ہے۔ اس بمباری کی وجہ سے وزیرستان اور باجوڑ کے مختلف علاقوں میں 39 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیاگیا ۔