1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’شاندار انسان‘ السیسی آج وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے مہمان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج پیر کے روز اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ السیسی ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے پر مبارکبار دینے والے پہلے غیر ملکی سربراہ مملکت تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مصری صدر السیسی اور ٹرمپ کے مابین ہونے والی ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین تعطل کے شکار امن مذاکرات پر بھی بات ہو گی جبکہ ساتھ ہی خطے میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی کارروائیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران السیسی کو ایک ’’شاندار انسان‘‘ قرار دیا تھا۔ السیسی پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ٹرمپ انسانی حقوق کے موضوع پر السیسی کے ساتھ تنہائی میں اور موقع محل دیکھ کر بات کریں گے۔

السیسی کے لیے یہ دورہ اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ٹرمپ کے پیش رو باراک اوباما نے انہیں کبھی بھی وائٹ ہاؤس مدعو نہیں کیا تھا۔ اوباما انتظامیہ نے کچھ عرصے کے لیے مصر کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد بھی روک دی تھی۔

Fussball WM-Qualifikation Ägypten gegen Ghana

السیسی پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں

مصر اور اردن وہ دو عرب ریاستیں ہیں، جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ اسی لیے ان دونوں ممالک کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ امن مذاکرات میں تعطل ختم کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 2014ء سے اس موضوع پر اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازعہ ختم کرانے کا ارادہ تو رکھتے ہیں تاہم اس بابت ان کی پالیسی ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ ابھی فروری میں ہی ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ وہ دو ریاستی حل کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے بقول اگر ایک ریاست کے قیام سے امن قائم ہوتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور ان میں توسیع روک دینے کے لیے بھی کہا تھا۔