1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے معاملے پر بین الاقوامی مذاکرات کا آغاز

شام میں گزشتہ ساڑھے پانچ برس سے جاری خانہ جنگی رکوانے کی تازہ کوشش کے طور پر امریکی سربراہی میں بین الاقوامی مذاکرات کا سلسلہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں شروع ہو گیا ہے۔

امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے علاوہ اردن، ترکی، مصر، ایران، عراق اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ بھی ان مذاکرات میں شریک ہیں۔

ان مذاکرات کا آغاز آج ہفتہ 15 اکتوبر کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس رابطہ کاری سے مثبت نتائج کا امکان بہت کم ہے۔

قبل ازیں امریکا اور روس نے شام میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا تاہم اس کا خاتمہ اُس وقت ہو گیا جب شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی طرف سے حلب میں باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کر دیا گیا۔

شام میں امدادی قافلے کو فضائی بمباری کا نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں امریکا نے شام کی صورتحال پر براہ راست رابطوں کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ اس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی اور روسی وزرائے خارجہ نے براہ راست ملاقات کی ہے۔

Schweiz Sergej Lawrow und John Kerry beraten in Lausanne über den Syrien-Krieg (Reuters/J.-C. Bott)

امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے علاوہ اردن، ترکی، مصر، ایران، عراق اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ بھی ان مذاکرات میں شریک ہیں

ان رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات تمام شرکاء کے ساتھ مذاکرات کے راؤنڈ سے قبل ہوئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 40 منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد کیری اور لاوروف دیگر شریک ممالک کے ساتھ مذاکراتی راؤنڈ میں شامل ہوئے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے قبل ازیں اپنے سعودی عرب کے ہم منصب عادل الجبیر کے ساتھ ملاقات کی۔ استنبول میں قائم سیرین اپوزیشن کے نیشنل کولیشن کے نائب سربراہ عبدل احد اسٹیفو نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں وقت کا ضیاع ہیں اور یہ شام میں خون خرابے کے سلسلے کو طول دینے کا عمل ہے۔