1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے مسئلے کا حل، عرب لیگ نے ٹیم تشکیل دے دی

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں شام میں عوام کے خلاف حکومتی فورسز کی کارروائیوں کی روک تھام اور وہاں صورتحال کے بات چیت کے ذریعے حل کے لیے ایک ٹیم کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

default

عرب لیگ کے اعلامیے کے مطابق یہ ٹیم شامی حکومت کو ایک طرف تو شہریوں کے خلاف کارروائیوں سے روکنے کی کوشش کرے گی اور دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے لیے بھی کوشاں ہو گی۔

اس ٹیم میں الجزائر، مصر، عمان، قطر اور سوڈان کے وزرائے خارجہ کو شامل کیا گیا ہے جبکہ عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی بھی اس کے رکن ہوں گے۔

شام کے حوالے سے قاہرہ میں ہونے والی اس ہنگامی میٹنگ کے بعد ان وزراء نے دمشق حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جمہوریت پسند مظاہرین کے خلاف تمام تر کارروائیاں فوری طور پر بند کرے اور ہر طرح کے ’تشدد اور قتل عام‘ سے باز رہے۔

Baschar Hafiz al-Assad

شامی صدر بشارالاسد

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس میں اتفاق ظاہر کیا گیا کہ شامی حکومت اور اپوزیشن سے رابطہ کر کے اگلے 15 روز میں شام کے لیے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔

اس سے قبل اتوار کی صبح نبیل العربی نے ایسی اطلاعات کی تردید کر دی تھی، جن میں کہا جا رہا تھا کہ شام میں جمہوریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے خونریز کریک ڈاؤن کے تناظر میں عرب لیگ شام کی رکنیت کی منسوخی پر غور کر رہی ہے۔ قاہرہ کے ایک ہوٹل میں وزرائے خارجہ کی بات چیت کے آغاز سے قبل نبیل العربی نے کہا، ’’ہم کسی ایسے معاہدے پر نہیں پہنچے کہ شام کی رکنیت منسوخ کی جائے۔‘‘

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام کی رکنیت کی منسوخی پر عرب لیگ کے زیادہ تر ممالک متفق تھے، تاہم لبنان اور یمن نے اس کی پرزور مخالفت کی تھی، جس کے بعد غالباﹰ یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس کے دوران قاہرہ میں سینکڑوں شامی باشندوں نے بشارالاسد حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی بھی کی۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM