1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے محصور علاقوں میں امداد کی رسائی شروع

اقوام متحدہ نے پیر کو شامی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود اس کے تیسرے دن شام میں محصور ہزاروں شہریوں کے لیے امداد کی فراہمی جاری رکھی۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی کاموں کے رابطہ کار یعقوب ایل ہیلو نے کہا ہے کہ عالمی ادارے  کو شام کی پانچ سالہ جنگ کے دوران ہونے والی پہلی جنگ بندی سے یہ امید وابستہ ہو چلی تھی کہ حالات اس حد تک سازگار ہو جائیں گے کہ آئندہ پانچ دنوں کے دوران شام کے محصور علاقوں میں 154,000 اضافی باشندوں تک امدادی اشیاء کی تقسیم کو ممکن بنایا جا سکے گا۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 480,000 شامی باشندے دمشق حکومت، اسلامک اسٹیٹ اور القائدہ کے محصورعلاقوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق پیر کو شام کے ایک حساس علاقے معظمية الشام کے متاثرین کے لیے طبی امداد اور کمبل لے کر ایک قافلہ پہنچنے کو ہے۔ یہ علاقہ جنوبی دمشق میں واقع ہے اوراسد فورسز نے اسے اپنے حصار میں لیا ہوا ہے۔

Syrien Damaskus Hilfskonvoi Roter Halbmond LKW

فائربندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے

ہفتے کے روز سے شروع ہونے والی فائربندی سے اب تک یہ پہلی امدادی کھیپ ہے جو متاثرین تک پہنچائی جا رہی ہے تاہم محصور علاقوں میں مکمل لاقانونیت پائی جاتی ہے اور وہاں جنگی قوانین کا احترام نام کو نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زید رعد الحسن نے کہا ہے کہ محصور علاقوں میں متحرب قوتوں کی طرف سے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کے سبب خوراک کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہے کہ ہزاروں افراد کے بھوک کے سبب لقمہ اجل بننے کے امکانات قوی ہیں۔

زید رعد الحسن نے کہا،’’جان بوجھ کر لوگوں کو بھوکا مارنے کے عمل کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا واضح طور پر ممنوع ہے۔‘‘

ایسے علاقوں تک امداد کی فراہمی غیر معمولی کردار ادا کرے گی جو ایک عرصے سے امداد سے محروم ہیں۔ اُدھر اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسٹیفن ڈے مستورا کی کوشش ہے کہ اگر فائر بندی کا سلسلہ جاری رہا اور مزید امداد متاثرہ علاقوں تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی تو سات مارچ کو امن مذاکرات کو دوبارہ سے شروع کیا جائے۔

اتوار کو شام کے مرکزی اپوزیشن گروپ نے فائر بندی کو ’’مثبت‘‘ عمل قرار دیتے ہوئے اس دوران فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کی شکایت بھی اقوام متحدہ اور غیر ملکی حکومتوں سے کی ہے۔ سعودی نواز اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سالم المصلت نے اس بارے میں کہا،’’جگہ جگہ خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تاہم مجموعی طور پر صورتحال پہلے سے بہتر ہے اور لوگوں کو راحت میسر ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ شامی اپوزیشن امن مذاکرات کو مستقل بنیادوں پر دیکھنا چاہتی ہے اور اب یہ امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طرح کی خلاف ورزیوں کو رکوائے۔