1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے متعدد شہروں میں نئے مظاہرے، تازہ فائرنگ سے مزید ہلاکتیں

مختلف شامی شہروں میں آج ہزارں مظاہرین نے صدر اسد کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور اس دوران جمعہ کو مارے گئے بیسیوں احتجاجی کارکنوں کے جنازوں میں شریک افراد پر فائرنگ میں مزید متعدد شہری ہلاک ہو گئے۔

default

’دہشت گردی کی بجائےآزادی‘ کا مطالبہ

کل جمعہ کے روز ملکی سکیورٹی فورسز اور حکومت کے حامی مسلح افراد نے کئی شہروں میں ’شام زندہ باد‘ اور ’بشار الاسد مردہ باد‘ کے نعرے لگانے والے اپوزیشن کے ہزاروں کارکنوں کے احتجاجی مظاہروں کے شرکاء پر فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تازہ ترین تعداد 88 اور 100 کے درمیان تک بتائی جا رہی ہے۔

یوں 22 اپریل شام میں موجودہ حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاج کی کئی ہفتے پرانی تحریک کا سب سے خونریز دن ثابت ہوا۔ اس دوران جنوبی شہر درعا میں بھی بہت سے مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے اور جنوبی شام ہی کے ایک قصبے ازرع میں بھی عینی شاہدین کے بقول کم از کم 12 مظاہرین جاں بحق ہو گئے تھے۔

NO FLASH Syrien Proteste

ہلاک شدگان کے جنازے میں شریک مشتعل شامی مظاہرین

آج ہفتہ کو ان ہلاک شدگان میں سے اکثر کی تدفین کے لیے متعدد شہروں میں جنازوں کے جلوس بڑی احتجاجی ریلیوں میں تبدیل ہو گئے۔ اس دوران ہزار ہا شہریوں نے صدر بشار الاسد کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کی اقتدار سے برطرفی کے مطالبے بھی کیے۔ اس عوامی طیش اور احتجاج کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی ان مظاہرین اور سوگواران پر شامی سکیورٹی دستوں کی مبینہ فائرنگ سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کم از کم چھ افراد مارے گئے۔

مختلف خبر ایجنسیوں نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ازرع کے قصبے میں ایک جنازے کے جلوس پر فائرنگ میں کم از کم دو افراد مارے گئے جبکہ ملکی دارالحکومت دمشق کے مضافات میں بھی ایسے ہی ایک جلوس کے مشتعل شرکاء پر سکیورٹی دستوں نے گولی چلا دی، جس کے نتیجے میں مزید کم از کم چار افراد جاں بحق ہو گئے۔

ان تازہ ہلاکتوں کی غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ شامی حکومت کئی غیر ملکی صحافیوں کو ملک بدر کر چکی ہے اور جو ملکی اور غیر ملکی صحافی وہاں ابھی تک کام کر رہے ہیں، ان کی بدامنی اور خونریزی سے متاثرہ علاقوں تک رسائی بھی بہت محدود کی جا چکی ہے۔

Flash-Galerie Syrien Homs Militär

شامی شہر حمص کے نواح میں گشت کرتے سرکاری فوج کے ایک دستے کی ایک موبائل فون سے لی گئی تصویر

اسی دوران دمشق سے موصولہ رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شامی پارلیمان کے ایک رکن نے حالیہ دنوں میں ملک میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ اور یوں بیسیوں شہریوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی پارلیمانی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

شام میں ان بیسیوں شہری ہلاکتوں کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ اس خونریزی کی کھل کر مذمت کرنے والوں میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور امریکی صدر باراک اوباما سمیت بہت سے عالمی رہنما شامل ہیں۔

اب تو شام کے روایتی حلیف ملک روس نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خونریزی باعث تشویش ہیں اور شامی حکومت کو ملک میں سیاسی اصلاحات کا عمل تیز تر کر دینا چاہیے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس