1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب، اہم اعلان متوقع

شام کے صدر بشار الاسد بدھ کو دمشق میں پارلیمنٹ سے خطاب کر رہے ہیں۔ ان کے خطاب سے قبل حکومت کی کابینہ مستعفی ہو گئی ہے، یہ صورت حال دو ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔

default

شام کی صورت حال کے تناظر میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ دمشق حکومت بھی اپنے ہاں سیاسی اصلاحات کے عمل کو یقینی بناتے ہوئے عوامی بے چینی کا ازالہ کرے اور ایسا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ کلنٹن نے شام میں جمہوری اقدار کے فروغ کو عوام کی منشا قرار دیا۔

شام میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران لطاکیہ اور درعا شہروں میں ہونے والی عوامی ریلیوں پر براہ راست فائرنگ کی وجہ سےدرجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد 130 ہے۔ دوسری طرف حکومت ہلاکتوں کی تعداد تیس بیان کرتی ہے۔ اسی صورت حال کے تناظر میں شام کے صدر اپنی قوم کو اعتماد میں لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ بشار الاسد آج بدھ کو پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔

صدر کے خطاب کے اعلان سے کچھ دیر قبل دمشق میں وزیر اعظم محمد ناجی العطری نےکابینہ سمیت اپنے استعفے صدر کو پیش کردیے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کی داخلی صورت حال کے تناظر میں وزیر اعظم ناجی العطری نے منصب سے سبکدوش ہونے میں عافیت سمجھی ہے۔ العطری سن 2003 سے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں اور اس دوران کئی بار انہوں نے حسب ضرورت کابینہ میں ردو بدل کیا۔ وزیر اعظم العطری نے آخری بار کابینہ میں تبدیلی گزشتہ سال اکتوبر میں کی تھی۔

اس پیش رفت کے ساتھ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران بشار الاسد سیاسی اصلاحات کے متعارف کروانے کے دیرینہ عمل کا آغاز بھی کر سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس خطاب سے عوامی سطح پر بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی گئی ہیں کیونکہ سخت قوانین میں نرمی کی بات کچھ سالوں سے عوام سن رہے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

Assad Anhänger protestieren in Damaskus

شام میں حکومت کی حمایت میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں

شام میں گزشتہ دو ہفتوں سے عوام سیاسی اصلاحات کے طلبگار ہیں۔ سن 1963 میں بعث پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد سے ملک پر سنگل پارٹی کی حکومت چلی آ رہی ہے اور تب سے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ بھی چلا آ رہا ہے۔ شام کے صدر کی مشیر بثینہ شعبان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حکام نے ایمرجنسی کی حالت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا اعلان شام کے صدر کی تقریر میں متوقع ہے۔

اس کے ساتھ شام کے حکام ذرائع ابلاغ پر لاگو سخت قوانین کو نرم کرنے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ حکومت مخالف مظاہروں کے جواب میں دارالحکومت دمشق میں بشار الاسد کے ہزاروں حامیوں کی جانب سے بھی ایک ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ اس ریلی میں شرکاء نے شامی صدر کے حق میں نعرہ بازی کی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس