1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے خلاف یورپی پابندیوں میں توسیع

یورپی یونین نے شام کے خلاف پابندیوں کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ اب اس میں وہاں پرتشدد مظاہروں میں ملوث افواج سے متعلقہ چار کمپنیوں اور مزید افراد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یورپی یونین کے ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ برطانیہ اور فرانس نے فہرستیں تیار کیں، جن میں تقریباﹰ ایک درجن افراد اور کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔

یورپی یونین نے شام کی بعض کمپنیوں اور افراد پر پہلے سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور ان فہرستوں میں نئے نام شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔

اس سفارت کار کے مطابق برطانوی فہرست میں کم از کم دو ایرانیوں کے خلاف پابندیوں کی تجویز بھی دی گئی، جنہیں شام میں مظاہرین کو دبانے کے لیے معاونت فراہم کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ تاہم یورپی یونین کی ستائیس میں سے ایک رکن ریاست نے اس فہرست کو منظور نہیں کیا۔

سفارت کار نے کہا ہے: ’’فرانس کی پوری فہرست کو منظور کر لیا گیا ہے، لیکن برطانوی فہرست پر ایک رکن ریاست نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ عالمی وقت کے مطابق بدھ کی صبح آٹھ بجے تک باقاعدہ اعتراض داخل نہ کیا گیا تو برطانیہ کی پوری فہرست بھی منظور کر دی جائے گی۔ انہوں نے ان پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد اور اداروں کے نام بتانے سے گریز کیا ہے۔ تاہم یہ ضرور کہا ہے کہ ان کا تعلق شام کی تیل کی صنعت سے نہیں ہے۔

TV-Ansprache des syrischen Präsidenten Assad 20.06.2011

شام کے صدر بشار الاسد

انہوں نے کہا: ’’وہ سب ملٹری اور مظاہرین کو دبانے کی کارروئیوں سے متعلق ہیں۔‘‘

روئٹرز کے مطابق اس سفارت کار نے یہ باتیں اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر بتائیں ہیں۔ گزشتہ ماہ یورپی یونین نے شام کے صدر بشار الاسد اور دمشق حکومت میں شامل بعض اعلیٰ اہلکاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن کے تحت وہ یورپی یونین کا سفر نہیں کر سکتے اور ان کی جائیدادیں بھی منجمد کی جا سکتی ہیں۔

بشار الاسد کی حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہیں بین الاقوامی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے پیر کو کچھ مہینوں کے اندر اندر اصلاحات کا عمل شروع کرنے کا وعدہ کیا تھ، تاہم مظاہرین اور عالمی رہنما ان کے اس وعدے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکے ہیں۔


رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM