1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے خلاف فوری پابندیوں کا مطالبہ ملتوی

مغربی طاقتوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے شام کے خلاف نئی اور فوری پابندیوں کی کوشش ترک کردی ۔ اس سلسلے میں ایک نیا مسودہٴ قرارداد سکیورٹی کونسل میں جمع کروا دیا گیا ہے۔

default

سلامتی کونسل میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پرتگال کے سفارتکاروں نے ایسی قرار داد کا مسودہ تیار کیا ہے، جسے امریکی حمایت حاصل ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس قرارداد کے ذریعے اب اُس صورت میں سخت پابندیوں کے اطلاق کا مطالبہ کیا گیا ہے اگر شامی صدر بشار الاسد حکومت مخالفین کو جبری طور پر دبانے کا سلسلہ بند نہ کردیں۔ سلامتی کونسل کے ارکان کو بھیجی گئی قرار داد کی نقل میں لکھا گیا ہے، ’’ شامی انتظامیہ کی جانب سے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی سلامتی کونسل سختی سے مذمت کرے گی۔‘‘

اس مجوزہ قرار داد پر آج سلامتی کونسل میں ابتدائی بحث کی جائے گی۔ مغربی ممالک اگلے دنوں میں اس قرارداد پر ووٹنگ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اے ایف پی نے اس قرارداد کی ایک نقل حاصل کی ہے، جس میں شام کے اندر ایک سیاسی عمل کے آغاز پر زور دیا گیا ہے۔ مجوزہ قرارداد کے ذریعے شام کے لیے اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ نامزد کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔  

اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے Gérard Araud  کا کہنا ہے کہ اگر یہ قرار داد منظور کر لی گئی تو، ’’ اس سے شام کو ایک وارننگ ملے گی۔‘‘قرار داد کی تیاری میں اس بات کا بھی دھیان رکھا گیا ہے کہ  روس اور چین بھی اس کی حمایت کریں، جو اب تک شام مخالف سابقہ قراردادوں کی حمایت سے انکار کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان دو ممالک کا مؤقف ہے کہ شامی حکومت کے خلاف سلامتی کونسل کی جانب سے فی الحال محض مذمتی بیانات جاری کیے جاسکتے ہیں۔

UNO Sicherheitsrat, syrischer Botschafter Mekdad

فوانسیسی سفارت کار ژیرار غو کا کہنا ہے کہ عرب ممالک ابھی تک شام کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں

ماسکو اور بیجنگ کو خدشہ ہے کہ اگر سلامتی کونسل سے کوئی قرار داد منظور ہوئی تو شام میں لیبیا کی طرح جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے۔ سلامتی کونسل کے کُل پندرہ رکنی ارکان میں سے بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ بھی شام مخالف پابندیوں کی قرار داد سے متعلق خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔

 فرانسیسی سفارتکار کا کہنا ہے کہ لیبیا اور شام کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔ لیبیا میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوجی کارروائی کی حمایت میں عرب لیگ اور افریقی ممالک نے حمایت کی تھی۔ اگرچہ روس اور چین کا اس مناسبت سے مؤقف رہا کہ نیٹو نے اپنی کارروائیوں میں اس قرارداد کی حدود کو پار کیا۔ ژیرار غو کے بقول، ’’ موجودہ شکل میں یہ قرارداد کئی حلقوں کے نزدیک بے معنی اور کمزور ہے مگر یہ اہم پیشرفت ہوگی، یہ پہلی شام مخالف قرارداد ہوگی، جس میں پابندیوں کا ذکر بھی ہوگا۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں حکومت مخالفین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں قریب 2700 انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ شامی حکومت کا البتہ مؤقف ہے کہ وہ مسلح دہشت گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، جو بعض علاقوں میں عوام کو یرغمال بنانے کی کوشش میں ہیں۔ دمشق حکومت کا خیال ہے کہ  مغربی طاقتیں شام کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM