1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے بحران کا سیاسی حل مکالمت سے ممکن ہے: چینی وزیر اعظم

چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ نے جمعرات کو چین کے دورے پر آئی ہوئی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ بات چیت میں شام کے بحران سے متعلق چینی موقف کو دھراتے ہوئے اس کے سیاسی حل پر زور دیا۔

آج جمعرات کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل بیجنگ پہنچیں تو ان کا استقبال چینی وزیر اعظم نے کیا۔ دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات میں چین اور جرمنی کے مابین دو طرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ کے علاوہ عرب ریاست شام کی خانہ جنگی کے موضوع پر بھی بات چیت ہوئی۔

چین ہمیشہ سے شام کے تنازعے کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ بیجنگ حکام کا دیرینہ موقف یہ ہے کہ شام کے تنازعے کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

China Bundekanzlerin Merkel in Peking

میرکل اور لی کیچیانگ کی بینجگ میں مشترکہ پریس کانفرنس

گزشتہ ماہ روس نے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف برسرپیکار باغیوں پر فضائی حملے شروع کر دیے جس کے بعد سے شام کی صورتحال مزید پیچیدہ اور سنگین ہو گئی ہے۔ شام کی خانہ جنگی میں امریکی اتحادیوں اور روسی فضائی حملوں سے اِس بحران نے علاقائی تنازعے کی جگہ بین الاقوامی شکل اختیار کر لی ہے۔ روس کی شام میں مداخلت کو مغربی طاقتوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ مغربی دنیا کا کہنا ہے کہ روس کے اس اقدام سے شام کے صدر بشار الاسد کے ہاتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔

لی کیچیانگ نے جمعرات کو میرکل کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شام کے تنازعے کا حل ناگزیر ہے اور یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ لی کا کہنا تھا،’’ سب سے اہم امر یہ ہے کہ شام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جائے اور اس کے لیے ایک مساوی اور کُھلی مکالمت کو بروئے کار لایا جائے‘‘۔

لی کیچیانگ کا کہنا ہے کہ متعدد عالمی لیڈروں نے شام کے بحران کے حل کے لیے مشورے دیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا،’’ میں سمجھتا ہوں کے ان تمام مشوروں، خاص طور سے اقوام متحدہ کی تجویز کو جمع کر کے شام کے بحران کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے‘‘۔ چینی وزیر اعظم نے شامی بحران کے حل کے لیے اپنے ملک کے ’’ تعمیری کردار ‘‘ کو برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

امریکا اور اُس کے اتحادی بھی شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی حملے کرتے رہے ہیں اور اِس اتحاد کی طرف سے اسد حکومت کے خلاف بر سرپیکار اپوزیشن گروپوں کی بھی حمایت کی جاتی رہی ہے۔ جبکہ چین اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے دوسرے مستقل رُکن روس کے ساتھ شام کے بارے میں ہونے والی ووٹنگ میں شامل رہا ہے۔ بیجنگ نے ہمیشہ شام کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور وہ اس بحران کے سیاسی حل کی ضرورت کے اپنے موقف کو دھراتا رہا ہے۔

Syrien - Russische Soldaten unterstützen Assad

روس شام میں اسد حکومت کا سااتھ دے رہا ہے

اگرچہ چین مشرق وسطیٰ کے خطے میں پائے جانے والے تیل پر انحصار کے باوجود وہاں کی سیاست میں بہت اہم سفارتی کردار ادا نہیں کرتا تب بھی وہ بارہا متنبہ کر چکا ہے کہ ملٹری ایکشن کبھی بھی کسی بحران کا حل نہیں ہو سکتا۔

جرمن چانسلر کے ساتھ چینی وزیر اعظم نے شام کے تنازعے پر ایک ایسے وقت میں مذاکرات کیے ہیں جب میرکل کو شام اور افغانستان کے مہاجرین کی جرمنی میں داخل ہونے کی وجہ سے انہیں اندرون اور بیرون ملک غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے۔

چینی وزیر اعظم نے مہاجرین کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپ کے متعلقہ ملکوں سے اپیل کی کے وہ مہاجرین کے بحران کو مناسب اقدامات کے ذریعے حل کریں اور اس مسئلے کو ایک انسانی المیہ بننے سے بچا لیں۔

DW.COM