1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’شام کے بارے میں امریکا اور سعودی عرب سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘

ایرانی صدر نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن کا ملک شام کی خانہ جنگی کی صورتحال کے بارے میں امریکا اور سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

حسن روحانی نے تاہم مطالبہ کیا ہے کہ ان مذاکرات سے جنگ سے تباہ حال عرب ریاست میں امن اور جمہوریت کو یقینی بنایا جائے۔ ایرانی صدر نے یہ بیان ایران کے دورے پر گئے ہوئے آسٹریا کے صدر ہانز فشر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ اس پریس کانفرنس میں جب حسن روحانی سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ شام کی خانہ جنگی کے حل کے لیے امریکا اور سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہیں؟، اُن کا جواب تھا،’’ ایران علاقائی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے کسی بھی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ اس کے نتائج شام کے محفوظ، مستحکم اور جمہوری مستقبل کی ضمانت ہوں‘‘۔

حسن روحانی نے اس سلسلے میں اپنا اور اپنی حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا،’’ یہ ایران کا بین الاقوامی، اسلامی اور انسانی معیار کے احترام کے عزم کا حصہ ہے‘‘۔ شیعہ مسلمانوں کا پاور ہاؤس سمجھا جانے والا ملک ایران شامی صدر بشارالاسد کی سرپرستی کر رہا ہے اور اس کی طرف سے سُنی حریف عرب ریاست سعودی عرب اور اُس کے روایتی دوست امریکا کو شام کی جنگ اور بشارالاسد کے خلاف بپا کی گئی جنگجوؤں کی شورش کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

Krieg in Syrien Rotes Kreuz in Homs 10.02.2014

لاکھوں شامی مہاجرین ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں

تہران نے اپنے عسکری مشیروں کو دمشق بھی بھیج چکا ہے تاکہ وہ بشار الاسد کی فورسز کی اسلامک اسٹیٹ گروپ کے ساتھ جنگ میں اُن کا ساتھ دے سکیں تاہم ایران حکومت اسد آرمی کی مدد کے لیے اپنے جنگی دستے بھیجنے سے انکار کر چُکی ہے۔

روحانی نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی حکومت کی مخالف فورسز کی پشت پناہی کے مقابلے میں خونریزی کے خاتمے کی کوششوں کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ روحانی کا اشارہ شامی اپوزیشن اور باغیوں کی سرپرستی اور مدد کرنے والے ممالک ترکی، سعودی عرب اور امریکا سمیت اُن مغربی ممالک کی طرف تھا جو بارہا شامی صدر بشار الاسد سے مطالبہ کر چُکے ہیں کے وہ اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں۔

ایرانی صدر کے بقول،’’یہ کسی ایک خاص فرد یا حکومت کی پشت پناہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ ہے شامی باشندوں کا جو ہلاک ہو رہے ہیں اور اپنا گھر بار چھوڑ کر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں‘‘۔

Krieg in Syrien 17.11.2013

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ شامی باشندوں کی بقاء اس وقت اولین ترجیح ہونی چاہیے

ایرانی صدر حسن روحانی نے عالمی برادری سے ایک سوال کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ،’’ کیا ایک ایسے وقت میں جب شام میں شہریوں کا خون بہہ رہا ہے، شامی اپوزیشن گروپوں اور شام کے آئین میں تبدیلی کے بارے میں بحث کا کوئی جواز بنتا ہے؟‘‘

شامی صدر نے کہا ہے کہ بیرونی ملکوں اور طاقتوں کو شام کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسا کرنے کی بجائے شام میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

DW.COM