شام کی قومی فٹ بال ٹیم کے نئے کوچ جرمنی کے بیرنڈ شٹانگے | کھیل | DW | 12.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

شام کی قومی فٹ بال ٹیم کے نئے کوچ جرمنی کے بیرنڈ شٹانگے

جنگ زدہ ملک شام کی قومی فٹ بال ٹیم کے نئے کوچ جرمنی کے بیرنڈ شٹانگے ہوں گے، جو اس ہفتے کے آخر تک دمشق پہنچ جائیں گے۔ وہ ماضی میں سابقہ مشرقی جرمنی کے علاوہ عراق، سنگاپور اور بیلاروس کی قومی ٹیموں کے کوچ رہ چکے ہیں۔

default

بیرنڈ شٹانگے کی عمر اس وقت انہتر برس ہے

دمشق سے پیر بارہ فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق شام کی قومی فٹ بال فیڈریشن کی طرف سے آج بتایا گیا کہ ماضی میں سابقہ مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ ریاست کی قومی ٹیم کے کوچ رہنے والے اور اس وقت 69 سالہ بیرنڈ شٹانگے متوقع طور پر اس ہفتے کے آخر تک شام پہنچ جائیں گے۔

Bernd Stange

بیرنڈ شٹانگے ماضی میں سابقہ مشرقی جرمنی کے علاوہ عراق، سنگاپور اور بیلاروس کے قومی فٹ بال کوچ بھی رہ چکے ہیں

فیفا ورلڈ کپ ٹرافی پہلی بار پاکستان میں

فٹ بال کے میدان سے ایوان صدر میں داخل ہونے والے جارج وِیّا

شامی فٹ بال فیڈریشن کے مطابق شٹانگے ماضی میں عراق، سنگاپور اور بیلاروس کی قومی فٹ بال ٹیموں کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں اور اب اس فیڈریشن کا ان کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت وہ کئی برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کی قومی فٹ بال ٹیم کی کوچنگ کرتے ہوئے اسے دوبارہ اس کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس بارے میں خود بیرنڈ شٹانگے نے تصدیق کرتے ہوئے ڈی پی اے کو بتایا کہ رواں ماہ کے اوائل میں ان کا شامی فٹ بال فیڈریشن کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا تھا، جس کے بعد اب وہ اپنی شام روانگی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

بیرنڈ شٹانگے کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے شام کی سیریئن عرب فٹ بال فیدریشن نامی قومی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’فٹ بال کے کھیل کے شامی شائقین کی خواہشات کے پیش نظر اور شام کی قومی فٹ بال ٹیم کو دوبارہ اس کھیل میں بہت اعلیٰ سطح پر لانے کے لیے اس تنظیم اور جرمن کوچ بیرنڈ شٹانگے کے مابین ایک حتمی معاہدہ ہو گیا ہے۔‘‘

Bernd Stange

کمیونسٹ مشرقی جرمنی کی قومی فٹ بال ٹیم کے کوچ کے طور پر بیرنڈ شٹانگے کی مشرقی برلن میں اگست انیس سو چوراسی میں لی گئی ایک تصویر

فٹ بال ورلڈ کپ 2018: کون اندر، کون باہر؟

پوٹن کی دعوت پر فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے روس جاؤں گا، سیپ بلاٹر

فیفا نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو معطل کر دیا

شامی عرب فٹ بال فیڈریشن کے نائب صدر فادی دباس نے بتایا، ’’فی الحال کوچنگ کا یہ معاہدہ ایک سال کے لیے ہے، جس میں فریقین اتفاق رائے سے توسیع کر سکتے ہیں۔‘‘ دباس کے مطابق شٹانگے آئندہ چند روز میں جب دمشق پہنچیں گے تو اس حوالے سے کوچنگ کے ایک باقاعدہ معاہدے پر دستخط شامی دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس میں کیے جائیں گے۔

ڈی پی اے کے مطابق شٹانگے کا بنیادی کام شام کی قومی فٹ بال ٹیم کو اگلے برس یعنی 2019ء میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے فٹ بال کے ایشیا کپ مقابلوں کے لیے تیار کرنا ہو گا۔ ان مقابلوں کے لیے شامی ٹیم پہلے ہی کوالیفائی کر چکی ہے۔

کئی سالہ تباہ کن خانہ جنگی اور مسلسل داخلی انتشار کے باوجود شام کی قومی فٹ بال ٹیم ابھی تک اتنی مضبوط ہے کہ اس کھیل کی نگران عالمی تنظیم فیفا کی ورلڈ رینکنگ میں شام اس وقت 76 ویں نمبر پر ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:53

فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کی پہلی بار پاکستان آمد

DW.COM

Audios and videos on the topic