’شام کی صدر کوئی خاتون بھی ہو سکتی ہے‘ | معاشرہ | DW | 14.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’شام کی صدر کوئی خاتون بھی ہو سکتی ہے‘

شامی امن مذاکرات کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفان ڈے مستورا کو امید کے شام کی اگلی صدر کوئی خاتون بھی ہو سکتی ہے۔ مستورا نے شام میں اگلے ڈیڑھ سال میں صدارتی انتخابات کی تجویز دی ہے۔

اسٹیفان ڈے مستورا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ایک عبوری حکومت کا قیام تمام مسائل کا حل ہے۔ وہ اس سے قبل یہ تجویز دے چکے ہیں کہ شام میں اگلے اٹھارہ ماہ کے دوران صدارتی و پارلیمانی انتخابات کرائے جانے چاہیں۔ اس موقع پر ایک صحافی کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ کسی خاتون کے ہاتھوں میں شامی صدارت دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس پر مستورا کا جواب تھا، ’’ اگر ایسا ہوتا ہے تو انہیں بہت خوشی ہو گی‘‘۔ اس موقع پر صحافیوں نے ڈے مستورا سے بار بار یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا ان کے ذہن میں کسی خاتون کا نام ہے، جس پر انہوں نے نفی میں جواب دیا۔

دوسری جانب سوئس شہر جنیوا میں آج سے شام کے موضوع پر امن مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں دمشق حکومت کے وفد کے سربراہ بشار جعفری نے بتایا کہ اسٹیفان ڈے مستورا کے ساتھ ان کی ملاقات مثبت اور تعمیری رہی۔ ان کے بقول اس موقع پر حکومتی وفد نے شامی تنازعے کے ممکنہ حل کے حوالے سے تجاویز اور خیالات سے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کو آگاہ کر دیا ہے۔ جعفری کے مطابق ڈے مستورا شامی اپوزیشن کے نمائندوں سے کل منگل کو ملاقات کریں گے، جس کے بعد بدھ کی ان کی ایک اور ملاقات ہو گی۔

بشار جعفری نے امن بات چیت شروع ہونے سے قبل کہا تھا،’’یہ ایک حقیقی موقع ہے‘‘۔ گزشتہ ماہ بھی شامی تنازعے کے ملکی فریقین کو ایک میز پر جمع کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کے بعد ستائیس فروری سے شام میں ایک فائر بندی معاہدے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس دوران مختلف علاقوں میں پیدا ہونے والی بنیادی اشیاء اور ادویات کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ جنیوا مذاکرات شام میں تقریباً پانچ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا ایک بہترین موقع ہے۔