1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کی ایک مارکیٹ پر بمبار طیارہ گر کر تباہ درجنوں ہلاکتیں

شام کے شمال مغربی شہر اریحا کی ایک پُر ہجوم مارکیٹ پر پیر کے روز ایک شامی بمبار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شامی تنازعہ پر گہری نظر رکھنے والی لندن میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ شامی فوجی طیارہ بمباری کے ایک مشن میں پر تھا کہ گر کر تباہ ہو گیا۔ آبزرویٹری نے تاہم کہا ہے کہ یہ امر ابھی واضح نہیں کہ کتنی ہلاکتیں بمباری اور کتنی طیارے کی تباہی کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔ آبزرویٹری کے چیف رامی عبدل رحمٰن کے بقول،’’ طیارہ زمین سے بہت نچلی سطح پر پرواز کر رہا تھا کہ تکنیکی خرابی کے سبب گر کر تباہ ہو گیا‘‘۔ ابتدائی خبروں میں مقامی باشندوں اور طبی ذرائع نے کم از کم 23 افراد جن میں دو بچے بھی شامل ہیں کی ہلاکت کا بتایا ہے۔ ان میں سے پانچ کی شناخت نہیں کی جا سکی۔

چند خبر رساں ایجنسیوں میں اس واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 31 بتائی جا رہی ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدل رحمٰن نے مزید کہا کہ کم از کم 70 افراد اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا،’’ چھ افراد اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہی یا نہیں‘‘۔

Syrien Al Nusra Kämpfer

النصرہ کا جنگجو

آبزرویٹری نے مقامی رہائشیوں کے حوالے سے کہا کہ شامی فوجی طیارہ ایں سبزی مارکیٹ کے قریب گرا جس سے زودار دھماکہ ہوا‘‘۔ طبی عملے اور شام میں سرگرم جنگجوؤں کے ذرائع پر انحصار کرنے والے سیرین آبزرویٹری نے مزید کہا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

بحران زدہ عرب ریاست شام کی حکومت گزشتہ قریب چار سال سے جاری جنگ میں فضائیہ پر بہت زیادہ انحصار کیے ہوئے ہے اور اکثر و بیشتر باغیوں کے قبضے والے شہروں پر فضائی کارروائی کرتی رہی ہے۔ رفتہ رفتہ شامی فوج کی فضائی صلاحیتیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ اس کے جہاز یا تو گر کر تباہ ہو چُکے ہیں یا اُن میں تکنیکی خرابی آ چُکی ہے۔

Syrien Kämpfe um Palmyra

شام کی جنگ نے اس عرب ریاست کا بنیادی ڈھانچہ برباد کر دیا ہے

رواں برس جنوری کے وسط میں ادلب میں ایک فوجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں کم از کم 35 حکومتی فوجی لقمہ اجل بن گئے تھے۔ یہ صوبہ باغیوں، القاعدہ اور اُس کے قریبی النصرہ فرنٹ کی جانب سے تاخت و تاراج کیا جاتا رہا ہے اور باغیوں کے اس اتحاد نے 28 مئی کو شہر اریحا کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ النصرہ اُن 13 مسلم اسلام پسند تنظیموں میں سے ایک ہے جو شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ 2011 ء میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت شروع ہونے کے بعد سے شام کی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ 30 ہزار سے زائد انسانی جانیں ضائع ہو چُکی ہیں۔

DW.COM